حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 156
حیات احمد ۱۵۶ جلد پنجم حصہ دوم دوسرے خط کی نقل مکرمی و عظمی و مولائی جناب مولوی عبد الکریم صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعد خاکسار خیریت سے ہے آپ کی خیریت مطلوب۔میں آنے سے کچھ انکار نہ کرتا لیکن کتابیں نہیں دیتے۔جن پر نوٹ ہیں یعنی شمس بازغہ اور اعجاز المسيح سیف چشتیائی میں جتنی سخت زبانی ہے اکثر محمد حسن کی ہے۔اسی وجہ سے اس کی موت کا نمونہ ہوا۔اب میرے خط لکھنے سے گولڑی خود اقراری ہے چنانچہ یہ کارڈ گولڑی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔جو اس نے مولوی کرم الدین صاحب کو لکھا ہے۔غرض گولڑی نے محمد حسن کے والد کو بہت تاکید کی ہے ان کو کتابیں مت دکھاؤ یعنی اس راقم خاکسار کو۔گولڑی کارڈ میں لکھتا ہے کہ محمد حسن کی اجازت سے لکھا گیا مگر یہ اعتراف راستبازی کے تقاضا سے نہیں بلکہ اس لئے کہ یہ بھید ہم پر کھل گیا اس لئے ناچار شرمندہ ہو کر اقراری ہوا۔دوسرے خط میں گولڑی کا کارڈ ہے جو اُس نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر روانہ کیا ہے ملاحظہ ہو۔خاکسار شہاب الدین از مقام بھیں مولوی کرم الدین کے خط کی نقل مکر منا حضرت اقدس مرزا صاحب جي مَدَّ ظِلُّهُ العَالِي۔السلام عليكم ورحمة الله وبركاته میں ایک عرصہ سے آپ کی کتابیں دیکھا کرتا ہوں مجھے آپ کے کلام سے تعشق ہے۔میں نے کئی دفعہ عالم رویا میں بھی آپ کی نسبت اچھے واقعات دیکھے ہیں اکثر آپ کے مخالفین سے بھی جھگڑا کرتا ہوں اگر چہ مجھے ابھی تک جناب سے سلسلہ پیری مریدی نہیں ہے کیونکہ اس بارے میں میرے خیال میں بہت احتیاط درکار ہے جب تک بالمشافہ اطمینان نہ کیا جاوے بیعت کرنا مناسب نہیں ہوتا لیکن تاہم مجھے جناب سے غائبانہ