حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 117 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 117

حیات احمد 112 خدا کے فضل سے بڑا معجزہ ظاہر ہوا جلد پنجم حصہ دوم ہزار ہزار شکر اُس قادر یکتا کا ہے جس نے اس عظیم الشان میدان میں مجھ کو فتح بخشی اور باوجود اس کے کہ ان ستر دنوں میں کئی قسم کے موانع پیش آئے چند دفعہ میں سخت مریض ہوا بعض عزیز بیمار رہے مگر پھر بھی یہ تفسیر اپنے کمال کو پہنچ گئی جو شخص اس بات کو سوچے گا کہ یہ وہ تفسیر ہے جو ہزاروں مخالفوں کو اسی امر کے لئے دعوت کر کے بالمقابل لکھی گئی ہے وہ ضرور اس کو ایک بڑا معجزہ یقین کرے گا بھلا میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ مجزہ نہیں تو پھر کس نے ایسے معرکہ کے وقت کہ جب مخالف علماء کو غیرت دہ الفاظ کے ساتھ بلا یا گیا تھا تفسیر لکھنے سے اُن کو روک دیا اور کس نے ایسے شخص یعنی اس عاجز کو جو مخالف علماء کے خیال میں ایک جاہل ہے جو ان کے خیال میں ایک صیغہ عربی کا بھی صحیح طور پر نہیں جانتا ایسی لا جواب اور فضیح بلیغ تفسیر لکھنے پر باوجودا مراض اور تکالیف بدنی کے قادر کر دیا کہ اگر مخالف علماء کوشش کرتے کرتے کسی دماغی صدمہ کا بھی نشانہ ہو جاتے تب بھی اس کی مانند تفسیر نہ لکھ سکتے اور اگر ہمارے مخالف علماء کے بس میں ہوتا یا خدا ان کی مدد کرتا تو کم سے کم اس وقت ہزار تفسیر ان کی طرف سے بالمقابل شائع ہونی چاہیے تھی لیکن اب ان کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ ہم نے اس بالمقابل تفسیر نویسی کو مدار فیصلہ ٹھہرا کر مخالف علماء کو دعوت کی تھی اور ستر دن کی میعاد تھی جو کچھ کم نہ تھی اور میں اکیلا اور وہ ہزار ہا عربی دان اور عالم فاضل کہلانے والے تھے تب بھی وہ تفسیر لکھنے سے نامرادر ہے، اگر وہ تفسیر لکھتے اور سورۃ فاتحہ سے میرے مخالف ثبوت پیش کرتے تو ایک دنیا ان کی طرف اُلٹ پڑتی پس وہ کونسی پوشیدہ طاقت ہے جس نے ہزاروں کے ہاتھوں کو باندھ دیا اور دماغوں کو پست کر دیا اور علم اور سمجھ کو چھین لیا اور سورۃ فاتحہ کی گواہی سے میری سچائی پر مہر لگا دی اور ان کے دلوں کو ایک اور مہر سے نادان اور نافہم کر دیا ہزاروں