حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 118
حیات احمد ۱۱۸ جلد پنجم حصہ دوم کے روبرو ان کے چرک آلودہ کپڑے ظاہر کئے اور مجھے ایسی سفید کپڑوں کی خلعت پہنا دی جو برف کی طرح چمکتی تھی اور پھر مجھے ایک عزت کی کرسی پر بٹھا دیا اور سورۃ فاتحہ سے ایک عزت کا خطاب مجھے عنایت ہوا وہ کیا ہے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اور خدا کے فضل اور کرم کو دیکھو کہ تفسیر کے لکھنے میں دونوں فریق کے لئے چارجز کی شرط تھی یعنی یہ کہ ستر دن کی میعاد تک چار جز لکھیں لیکن وہ لوگ باوجود ہزاروں ہونے کے ایک جز بھی نہ لکھ سکے اور مجھ سے خدائے کریم نے بجائے چارجز کے ساڑھے بارہ جز لکھوا دیئے۔اب میں علماء مخالفین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ معجزہ نہیں ہے اور اس کی کیا وجہ ہے کہ معجزہ نہ ہو؟ کوئی انسان حتی المقدور اپنے لئے ذلت قبول نہیں کرتا پھر اگر تفسیر لکھنا مخالف مولویوں کے اختیار میں تھا تو وہ کیوں نہ لکھ سکے؟ کیا یہ الفاظ جو میری طرف سے اشتہارات میں شائع ہوئے تھے کہ جو فریق اب بالمقابل ستر دن میں تفسیر نہیں لکھے گا وہ کاذب سمجھا جائے گا یہ ایسے الفاظ نہیں ہیں جو انسان غیرت مند کو اس پر آمادہ کرتے ہیں کہ سب کام اپنے پر حرام کر کے بالمقابل اس کام کو پورا کرے تا جھوٹا نہ کہلاوے؟ لیکن کیونکر مقابلہ کر سکتے خدا کا فرمودہ کیوں کرٹل سکتا کہ كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِي خدا نے ہمیشہ کے لئے جب تک دنیا کا انتہا ہو یہ حجت ان پر پوری کرنی تھی کہ باوجودیکہ علم اور لیاقت کی یہ حالت ہے کہ ایک شخص کے مقابل پر ہزاروں ان کے عالم و فاضل کہلانے والے دم نہیں مار سکتے پھر بھی کافر کہنے پر دلیر ہیں! کیا لازم نہ تھا کہ پہلے علم میں کامل ہوتے پھر کا فر کہتے ؟ جن لوگوں کے علم کا یہ حال ہے کہ ہزاروں مل کر بھی ایک شخص کا مقابلہ نہ کر سکے۔چارجز کی تفسیر نہ لکھ سکے ان کے بھروسہ پر ایک ایسے مامور من اللہ کی مخالفت اختیار کرنا جو نشان پر نشان دکھلا رہا ہے بڑے بدقسمتوں کا کام ہے!! بالآخر ایک اور ہزار شکر کا مقام ہے کہ اس موقعہ پر ایک پیشگوئی آنحضرت علی المجادلة: ٢٢