حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 116 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 116

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم چہ ہیبت ہا بدادند این جواں که ناید کس به میدان مـحـمـد باوجود یکہ پیر صاحب کو اپنے دوستوں اور حامی علماء ہند وعرب سے مدد لینے کی کھلی اجازت تھی مگر وہ رعب جو اللہ تعالیٰ کی وحی میں نُصرت بالرعب کی صورت میں عطا ہو چکا تھا اس نے پیر صاحب کی قوت عمل کو سلب کردیا بالمقابل حضرت اقدس نے اِعْجَازُ الْمَسِیح کے نام سے موعوده تفسیر عین وقت پر باوجود اس کے کہ دوران تصنیف اعجاز المسیح مختلف قسم کی روکیں پیش آئیں مگر جیسا کہ اعلان کیا گیا تھا ان مواقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی نصرت فرمائی اور ہر پیش آمدہ روک پر آپ کو غلبہ عطا فرمایا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقابلہ تفسیر نویسی اعجازی تائید محض اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تھی اور اس کی ہی تائید اور نصرت سے یہ اعجاز ظاہر ہوا جس قد را یک سلیم الفطرت انسان غور کرتا ہے اسی قدر اس کا ایمان ترقی کرتا ہے کہ ایک میعاد مقررہ کے اندر ایک ضخیم کتاب حقائق و معارف قرآنیہ پر عدیم النظیر چھاپ کر شائع کر دینا اور فریق مخاطب کے لئے ہر قسم کی کھلی اجازت دے دینا کہ وہ جس سے چاہے مدد لے اور گھر بیٹھ کر لکھے اس طرح دوسرے کے لئے تمام پابندیاں اڑا دینا اور اپنے لئے ہر قسم کی پابندی عائد کر لینا معمولی بات نہیں۔غرض ۱۵ر دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۱۵ فروری ۱۹۰۱ء کے عرصہ میں اس اعلان کے موافق اعجاز المسیح شائع ہو گئی اور گولڑوی صاحب اور ان کے انصار ( جن میں تمام علماء ادیب مفسر ہر علم کے مدعی شامل ہیں ) اس مقابلہ میں عہدہ برا نہ ہو سکے۔اور یہ ایک اعجازی نشان نہیں ، متعد دنشانات ہیں جیسا کہ مناسب موقع پر تشریح کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ اس موقعہ پر ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء کو حضرت اقدس امام الزمان نے ذیل کا اعلان اس اعجاز کے اظہار میں شائع کیا۔ا ترجمہ۔اس جواں کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے میدان میں کوئی بھی ( مقابلہ پر ) نہیں آتا۔