حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 115
۱۱۵ جلد پنجم حصہ دوم حیات احمد پیر گولڑوی اور نیا محاذ پیر مہر علی شاہ آف گولڑہ کو اس انقلاب سے سخت دکھ ہوا جو اس کے بعض معز ز و مخلص مریدین کا اس کے خلاف بغاوت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے سے ہوا۔یہ بزرگ اپنے اخلاص اور اعمال صالحہ میں نمونہ کے لوگ تھے اور بعض ان میں سے محکمہ ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر تھے جیسے حضرت بابو فیروز الدین صاحب ، حضرت بابوشاہ دین صاحب حضرت بابو عطا الہی صاحب وَغَيْرُهُمْ اور انہیں خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ ایسا نہ ہو میری خاموشی میرے حلقہ مریدین پر بُرا اثر پیدا کرے ورنہ اس سے پیشتر وہ بالکل خاموش تھے۔مخالفت کی ابتدائی کہانی عہد جدید کی جلد سوم میں لکھ آیا ہوں۔اس سلسلہ میں پیر صاحب نے شَمسُ الْهِدَايَہ نامی کتاب شائع کی جس کا جواب حضرت مولا نا محمد احسن امروہی نے شَمُسِ بَازِغَہ کے نام سے دیا اور بالآخر حضرت اقدس نے ان کو تفسیر نویسی کے مقابلہ کی دعوت دی جس کو عملاً پیر صاحب نے رڈ کر دیا اور اپنے ربّانی اقرار اور عملی انکار کے چکر میں ڈال کر سرخروئی حاصل کرنی چاہی مگر ہے ہا نہاں کے مانند آن رازے کنر و سازند محفل با اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کی ایسے رنگ میں رہنمائی فرمائی کہ ایک ہی ضرب سے وہ سا را تار پود کھل گیا۔حضرت اقدس نے پیر صاحب گولڑوی کو تفسیر نویسی کا ایک دوسرا پہلو پیش کیا پہلے تو یہ تھا کہ ایک جلسہ میں بالمقابل بیٹھ کر تفسیر لکھیں جب اس میدان سے شکست کھا کر بھاگے تو حضرت نے اُن کو گھر میں بیٹھ کر ایک مدت معینہ کے اندر سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھنے کی دعوت دی کہ ستر دن کے اندر عربی زبان میں اپنے ہی گھر بیٹھ کر دوسروں سے مدد لے کر بلکہ ادیب عربوں کو بھی ساتھ ملا کر تفسیر لکھ کر شائع کر دیں یہ ایسا آسان فیصلہ تھا کہ اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہ ہوسکتی تھی۔مگر اس میدان میں بھی پیر صاحب کو جرات نہ ہوئی اور یہ تحدی پوری شان کے ساتھ نمایاں ہو گئی۔