حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 114 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 114

حیات احمد ۱۱۴ جلد پنجم حصہ دوم یہ تو ہیں کر کے پھل ویسا ہی پایا اہانت نے انھیں کیا کیا دکھایا خدا نے پھر تمہیں اب ہے بلایا کہ سوچو عزتِ خَيْرُ الْبَرَايَا ہمیں ره خُدا نے خود دیکھا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي کوئی مُردوں سے کیونکر راہ پاوے مرے تب بے گماں مُردوں میں جاوے خُدا عیسی کو کیوں مُردوں سے لاوے ہ کیوں خود مُہر ختمیت مٹادے کہاں آیا کوئی تا وہ بھی آوے کوئی اک نام ہی ہم کو بتاوے تمہیں کس نے یہ تعلیم خطا دی وہ فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَّا عَادِي معمہ ته گھل گیا روشن ہوئی بات ه آیا منتظر جس کے تھے دن رات دکھائیں آسماں نے ساری آیات زمیں نے وقت کی دے دیں شہادات سے کچھ ڈرو چھوڑو معادات پھر اس کے بعد کون آئے گا ہیہات خُدا سے خُدا نے اک جہاں کو یہ سُنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي مسیح وقت آب دنیا میں آیا خُدا نے عہد کا دن ہے دیکھایا مُبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا وہی کے اُن کو ساقی نے پلا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي ( مجموعه آمین صفحه ۱ تا ۱۸ مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان ۲۷ نومبر ۱۹۰۱ء)