حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 109
حیات احمد 1+9 جلد پنجم حصہ دوم میری ہر پیشگوئی خود بنا دی تَرى نَسُلًا بَعِيدًا بھی دکھا دی جو دی ہے مجھ کو وہ رکس کو عطا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں ملاحت ہے عجب اس دلستاں میں ہوئے بدنام ہم اُس سے جہاں میں عدو جب بڑھ گیا شور وفغاں میں نہاں ہم ہوگئے یارِ نہاں میں ہوا مجھ پر وہ ظاہر میرا ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي کروں کیونکر ادا میں شکر باری فدا ہو اُس کی راہ میں عمر ساری مرے سر پر ہے منت اس کی بھاری چلی اُس ہاتھ سے کشتی ہماری مری بگڑی ہوئی اس نے بنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى اللَا عَادِي تجھے حمد و ثنا زیبا ہے پیارے کہ تو نے کام سب میرے سنوارے چمکتے ہیں وہ ستارے تیرے احساں مرے سر پر ہیں بھارے گڑھے میں تو نے سب دشمن اتارے ہمارے کر دیئے اونچے منارے مقابل میں مرے یہ شریروں پر پڑے ان کے شرارے نه أن سے رُک سکے مقصد ہمارے انہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی لوگ ہارے کہاں مرتے تھے پر تو نے ہی مارے فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي تیری رحمت ہے میرے گھر کا شہتیر مری جاں تیرے فضلوں کی پند گیر حریفوں کو لگے ہر سمت سے تیر گرفتار آگئے جیسے کہ نخچیر