حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 108 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 108

حیات احمد ۱۰۸ جلد پنجم حصہ دوم میں سے ایک یوم کے ذریعہ تذکیر کے لئے منائی اور اس کا اظہار اس آمین سے ہوتا ہے جو اس تقریب پر آپ نے بطور دعا لکھی میں سلیم الفطرت پڑھنے والوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ غور سے پڑھیں میں یہاں کچھ حصہ درج کرتا ہوں:۔ہمیں اس یار سے تقویٰ عطا ہے نہ یہ ہم سے کہ احسانِ خدا ہے کرو کوشش اگر صدق و صفا ہے کہ یہ حاصل ہو جو شرط لقا ہے یہی آیینه خالق نما ہے ہر اک نیکی کی جڑ اتقا ہے یہی اک جوہر سیف دعا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے یہی اک فخرِ شانِ اولیاء ہے بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے ڈرو یارو کہ وہ سینا خدا ہے اگر سوچو، یہی دَارُ الجَزَا ہے مجھے تقویٰ سے اس نے جزا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَّا عَادِي عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ سنو ہے حاصل اسلام تقویٰ خدا کا عشق کے اور جام تقویٰ مسلمانو! بناؤ تقوی کہاں ایماں اگر ہے خام تقویٰ دولت تو نے مجھ کو اے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي خدایا تیرے فضلوں کو کروں یاد بشارت تو نے دی اور پھر یہ اولاد کہا ہرگز نہیں ہوں گے یہ برباد بڑھیں گے جیسے باغوں میں ہوں شمشاد خبر مجھ کو تو نے بارہا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي میری ہر بات کو تو نے چلا دی مری ہر روک بھی تو نے اٹھا دی