حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 110 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 110

حیات احمد +11 جلد پنجم حصہ دوم ہوا آخر وہی جو تیری تقدیر بھلا چلتی ہے تیرے آگے تدبیر خدا نے ان کی عظمت سب اڑا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي مری اُس نے ہر اک عزّت بنا دی مخالف کی اک شیخنی مٹا دی ہر مجھے ہر قسم سے اس نے عطا دی سعادت دی، ارادت دی، وفا دی ہر اک آزار سے مجھ کو شفا دی مرض گھٹتا گیا جوں جوں دوا دی محبت غیر کی دل سے ہٹا دی خدا جانے کہ دل کو کیا سنا دی دوا دی اور غذا دی اور قبا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي مجھے کب خواب میں بھی تھی یہ امید کہ ہوگا میرے پر یہ فضل جاوید ملی یوسف کی عزت لیک بے قید نہ ہو تیرے کرم سے کوئی نومید مراد آئی، گئی سب نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي تری رحمت عجب ہے اے مرے یار ترے فضلوں سے میرا گھر ہے گلزار غریقوں کو کرے اک دم میں تو پار جو ہو نومید تجھ سے ، ہے وہ مُردار وہ ہو آوارہ ہر دشت و وادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَا عَادِي ہوئے ہم تیرے اے قادر توانا ترے در کے ہوئے اور تجھ کو جانا آنا مصیبت سے ہمیں ہر دم بچانا ہمیں بس ہے تیری درگہ کہ تیرا نام ہے و غفار ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الَّا عَادِي