حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 77
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول سے ہمارے دلوں کو دکھ پہنچے تو ہم صبر کریں۔اور کچھ شک نہیں کہ جلد تر حکام کو اس طرف متوجہ کرنا یہ بھی ایک بے صبری کی قسم ہے اس لئے عقل مند اور دوراندیش مسلمان ہرگز اس طریق کو پسند نہیں کرتے کہ گورنمنٹ عالیہ تک اس بات کو پہنچایا جائے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے قرآن میں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ دین اسلام میں اکراہ اور جبر نہیں۔جیسا کہ وہ فرما تا لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ لے اور جیسا کہ فرماتا ہے أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ لیکن اس قسم کے حیلے اکراہ اور جبر میں داخل ہیں جس سے اسلام جیسا پاک اور معقول مذہب بدنام ہوتا ہے۔غرض اس بارے میں میں اور میری جماعت اور تمام اہل علم اور صاحب تذبّر مسلمانوں میں سے اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ کتاب امہات المومنین کی لغو گوئی کی یہ سزا نہیں ہے ہم اپنی گورنمنٹ محسنہ کو دست اندازی کے لئے توجہ دلاویں گوخود دانا گورنمنٹ اپنے قوانین کے لحاظ سے جو چاہے کرے مگر صرف ہمارا یہ فرض ہونا چاہیے کہ ہم ایسے اعتراضات کا کہ جو در حقیقت نہایت نادانی یا دھوکہ دہی کی غرض سے کئے گئے ہیں خوبی اور شائستگی کے ساتھ جواب دیں اور پبلک کو اپنی حقیت اور اخلاق کی روشنی دکھلائیں۔اسی غرض کی بناء پر یہ میموریل روانہ کیا گیا ہے اور تمام جماعت ہماری معزز مسلمانوں کی اسی پر متفق ہے۔ــراق خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۴ رمئی ۱۸۹۸ء مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۲۱۵ تا ۲۱۹ طبع بار دوم ) مندرجہ بالا میموریل کے پڑھے جانے کے بعد حضرت اقدس نے بآواز بلند فرمایا کہ چونکہ یہ البقره : ۲۸۷ یونس: ١٠