حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 78
حیات احمد جلد پنجم حصہ اوّل میموریل اسلام اور اہلِ اسلام کی حمایت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی عزت اور قرآن کریم کی عظمت قائم کرنے اور اسلام کی پاکیزہ اور اصفی شکل کو دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے اس لئے اس کے آپ کے سامنے پڑھے جانے سے صرف یہ غرض ہے کہ تا آپ لوگوں سے بطور مشورہ دریافت کیا جاوے کہ آیا مصلحت وقت یہ ہے کہ کتاب کا جواب لکھا جاوے یا میموریل بھیج کر گورنمنٹ سے استدعا کی جائے کہ وہ ایسے مصنفین کو سرزنش کرے اور اشاعت بند کرے پس آپ لوگوں میں سے جو کوئی نکتہ چینی اس امر پر کرنی چاہے وہ نہایت آزادی اور شوق سے کر سکتا ہے اور اللہ اللہ کس قدر نیک نیتی اور امرحق کا اظہار مطلوب ہے یہ خیال اور رہن نہیں کہ ایک بات جو میرے منہ سے نکلی ہے ہر ایک اس کی خواہ مخواہ تصدیق کرے نہیں نہیں دین قوم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ الصلواۃ والتسلیم کی عزت اور عظمت کے مقابلہ میں اپنی بات کیا اس کی ہستی کیا کچھ سمجھتے ہی نہیں کیا بداندیش مخالف اب بھی نہیں دیکھتے کہ یہ فدائے قوم اور شار اسلام کہاں تک اپنے دعاوی میں سچا ہے یہ بھی راستبازوں کا ایک نشان ہے الغرض مجمع میں سے صرف ایک شخص بولا اور کہا کہ ایک شخص۔اگر کتاب کی اشاعت بند نہ ہوئی تو ہمیشہ تک طبع ہوتی رہے گی۔حضرت اقدس۔اگر ہم واقعی طور پر اس کتاب کی اشاعت بند نہ کریں جو اس کے رڈ کرنے کی صورت میں ہو سکتی ہے تو گورنمنٹ سے ایک بار نہیں ہزار بار اس قسم کی مدد لے کر اس کی اشاعت بند کی جاوے وہ رک نہیں سکتی اگر اس تھوڑے عرصہ کے لئے وہ برائے نام بند بھی ہو جائے تو پھر بھی بہت سے کم طبیعت کے انسانوں اور بعض آنے والی نسلوں کے لئے یہ تجویز زہر قاتل ہوگی کیوں کہ جب ان کو یہ معلوم ہوگا کہ فلاں کتاب کا جواب جب نہ ہو سکا تو اس کے لئے گورنمنٹ سے بند کرانے کی کوشش کی۔اس سے ایک قسم کی بدظنی اپنے مذہب کی نسبت پیدا ہوگی پس میرا یہ اصول رہا ہے کہ ایسی کتابوں کا جواب دیا جاوے اور گورنمنٹ کی ایک سچی امداد یعنی آزادی سے فائدہ اٹھایا جاوے اور ایسا کافی جواب دیا جائے کہ خود ان کو اشاعت کرتے ہوئے ندامت معلوم ہو۔دیکھو جیسے ہمارے مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں ان کو معلوم ہو گیا کہ مقدمہ میں جان نہیں رہی اور مصنوعی جادو کا پتلا