حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 76 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 76

حیات احمد ۷۶ جلد پنجم حصہ اوّل ہے؟ اس صدی سے پہلے عیسائی مذہب کا یہ طریق نہ تھا کہ اسلام پر گندے اور ناپاک حملے کرے بلکہ اکثر ان کی تحریریں اور تالیفیں اپنے مذہب تک ہی محدود تھیں۔قریباً تیرھویں صدی ہجری سے اسلام کی نسبت بدگوئی کا دروازہ کھلا جس کے اول بانی ہمارے ملک میں پادری فنڈل صاحب تھے۔بہر حال اس پیشگوئی میں مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ جب تم دل آزار کلمات سے دکھ دیئے جاؤ اور گالیاں سنو تو اس وقت صبر کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔سوقر آنی پیشگوئی کے مطابق ضرور تھا کہ ایسا زمانہ بھی آتا کہ ایک مقدس رسول کو جس کی امت سے ایک کثیر حصہ دنیا کا پُر ہے، عیسائی قوم جیسے لوگ جن کا تہذیب کا دعوی تھا گالیاں دیتے اور اس بزرگ نبی کا نام نعوذ باللہ زانی اور ڈاکو اور چور رکھتے اور دنیا کے سب بد تروں سے بدتر ٹھہراتے بے شک یہ اُن لوگوں کے لئے بڑے رنج کی بات ہے جو اس پاک رسول کی راہ میں فدا ہیں اور ایک دانش مند عیسائی بھی احساس کر سکتا ہے کہ جب مثلا ایسی کتاب أُمهات المؤمنین میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تعوذ باللہ زنا کار کے نام سے پکارا گیا اور گندے سے گندے تحقیر کے الفاظ آنجناب کے حق میں استعمال کئے گئے اور پھر عمداً ہزار کا پی اس کتاب کی محض دلوں کے دکھانے کے لئے عام اور خاص مسلمانوں کو پہنچائی گئی اس سے کس قدر دردناک زخم عام مسلمانوں کو پہنچے ہوں گے اور کیا کچھ ان کے دلوں کی حالت ہوئی ہوگی۔اگر چہ بد گوئی میں یہ کچھ پہلی ہی تحریر نہیں ہے بلکہ ایسی تحریروں کی پادری صاحبوں کی کروڑ ہا تک نوبت پہنچ گئی ہے۔مگر یہ طریق دل دکھانے کا ایک نیا طریق ہے کہ خواہ نخواہ غافل اور بے خبر لوگوں کے گھروں میں یہ کتابیں پہنچائی گئیں اور اسی وجہ سے اس کتاب پر بہت شور اٹھا ہے۔باوجوداس بات کے کہ پادری عمادالدین اور پادری ٹھاکر داس کی کتابیں اور نور افشاں کی چھپیں سال کی مسلسل تحریر میں سختی میں اس سے کچھ کم نہیں ہیں۔یہ تو سب کچھ ہوا مگر ہمیں تو آیت موصوف بالا میں یہ تاکیدی حکم ہے کہ جب ہم ایسی بد زبانی کے کلمات سنیں جن