حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 75
حیات احمد ۷۵ جلد پنجم حصہ اول چنانچہ حال میں پر چہ مخبر دکن میں جو مسلمانوں کا ایک اخبار ہے ماہ اپریل کے ایک پرچہ میں اسی بات پر بڑا زور دیا گیا ہے کہ رسالہ اُمَّهَاتُ المؤمنین کے تلف کرنے یا روکنے کے لئے گورنمنٹ سے ہرگز التجا نہیں کرنی چاہیے کہ یہ دوسرے پیرایہ میں اپنے مذہب کی کمزوری کا اعتراف ہے۔جہاں تک ہمیں علم ہے ہم جانتے ہیں کہ اخبار مذکورہ کی اس رائے کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی ، جس سے ہم سمجھتے ہیں کہ عام مسلمانوں کی یہی رائے ہے کہ اس طریق کو جس کا انجمن مذکور نے ارادہ کیا ہے ہرگز اختیار نہ کیا جائے کہ اس میں کوئی حقیقی اور واقعی فائدہ ایک ذرہ برابر بھی نہیں ہے۔اہل علم مسلمان اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بارے میں ایک پیشگوئی ہے اور اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے وصیت کے طور پر ایک حکم ہے جس کو ترک کرنا سچے مسلمانوں کا کام نہیں ہے اور وہ یہ ہے لَتُبْلَونَ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ترجمه يه یا ہے کہ خدا تمہارے مالوں اور جانوں پر بلا بھیج کر تمہاری آزمائش کرے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت سی دکھ دینے والی باتیں سنو گے سواگر تم صبر کرو گے اور اپنے تئیں ہر ایک ناکردنی امر سے بچاؤ گے تو خدا کے نزدیک اولو العزم لوگوں میں سے ٹھہرو گے۔یہ مدنی سورۃ ہے اور یہ اس زمانہ کے لئے مسلمانوں کو وصیت کی گئی ہے کہ جب ایک مذہبی آزادی کا زمانہ ہوگا کہ جو کوئی کچھ پخت گوئی کرنا چاہے وہ کر سکے گا جیسا کہ یہ زمانہ ہے۔سو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ کے لئے تھی اور اسی زمانہ میں پوری ہوئی۔کون ثابت کر سکتا ہے کہ جو اس آیت میں أَذًى كَثِيرًا کا لفظ ایک عظیم الشان ایذارسانی کو چاہتا ہے۔وہ کبھی کسی صدی میں اس سے پہلے اسلام نے دیکھی آل عمران : ۱۸۷