حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 74
حیات احمد ۷۴ جلد پنجم حصہ اول کے فضول اعتراضات ناواقفوں کی نظر میں فیصلہ ناطق کی طرح سمجھے جائیں گے اور خیال کیا جائے گا کہ ہماری طاقت میں یہی تھا جو ہم نے کر لیا سو اس سے ہماری دینی عزت کو اس سے بھی زیادہ ضرر پہنچتا ہے جو مخالف نے گالیوں سے پہنچانا چاہا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کتاب کو ہم نے عمداً تلف کرایا یا رو کا پھر اسی کو مخاطب ٹھہرا کر اپنی کتاب کے ذریعہ سے پھر شائع کرنا نہایت نامعقول اور بیہودہ طریق ہوگا۔اور ہم گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم درد ناک دل سے اُن تمام گندے اور سخت الفاظ پر صبر کرتے ہیں جو صاحب أُمَّهَاتُ المؤمنین نے استعمال کئے ہیں اور ہم اس مؤلّف اور اس کے گروہ کو ہر گز کسی قانونی مؤاخذہ کا نشانہ بنانا نہیں چاہتے کہ یہ امران لوگوں سے بہت ہی بعید ہے کہ واقعی نوع انسان کی ہمدردی اور سچی اصلاح کے جوش کا دعویٰ رکھتے ہیں۔یہ بات بھی گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں عرض کر دینے کے لائق ہے کہ اگر چہ ہماری جماعت بعض امور میں دوسرے مسلمانوں سے ایک بجوئی اختلاف رکھتی ہے مگر اس مسئلہ میں کسی سمجھدار مسلمان کو اختلاف نہیں کہ دینی حمایت کے لئے ہمیں کسی جوش یا اشتعال کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ ہمارے لئے قرآن میں یہ حکم ہے وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اور دوسری جگہ حکم ہے جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کے اس کے معنے یہی ہیں کہ نیک طور پر اور ایسے طور پر جو مفید ہو عیسائیوں سے مجادلہ کرنا چاہیے اور حکیمانہ طریق اور ایسے ناصحانہ طور کا پابند ہونا چاہیے کہ اُن کو فائدہ بخشے لیکن یہ طریق کہ ہم گورنمنٹ کی مدد سے یا نعوذ باللہ خود اشتعال ظاہر کریں ہرگز ہمارے اصل مقصود کو مفید نہیں ہے۔یہ دنیاوی جنگ و جدل کے نمونے ہیں اور سچے مسلمان اور اسلامی طریقوں کے عارف ہرگز ان کو پسند نہیں کرتے کیونکہ ان سے وہ نتائج جو ہدایت بنی نوع کے لئے مفید ہیں پیدا نہیں ہو سکتے العنكبوت: ۴۷ النحل : ١٢٢