حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 34
حیات احمد ۳۴ جلد پنجم حصہ اول طور پر ہیں۔ابتداء سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے۔اور میں مخالفوں کے سخت الفاظ پر بھی صبر کر سکتا تھا لیکن دو مصلحت کے سبب سے میں نے جواب دینا مناسب سمجھا اول یہ کہ تا مخالف لوگ اپنے سخت الفاظ کا تختی میں جواب پا کر اپنی روش بدلا لیں اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں۔دوم یہ کہ تا مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان جوش میں نہ آویں اور سخت الفاظ کا جواب بھی کسی قدر سخت پا کر اپنی پُر جوش طبیعتوں کو اس طرح سمجھا لیں کہ اگر اس طرف سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تو ہماری طرف سے بھی کسی قدر سختی کے ساتھ ان کو جواب مل گیا اور اس طرح وہ وحشیانہ انتقاموں سے دستکش رہیں“۔پھر فرماتے ہیں کہ یہ بات بالکل سچ ہے کہ اگر سخت الفاظ کے مقابل پر دوسری قوم کی طرف سے کچھ سخت الفاظ استعمال نہ ہوں تو ممکن ہے کہ اس قوم کے جاہلوں کا غیظ وغضب کوئی اور راہ اختیار کرے مظلوموں کے بخارات نکلنے کے لئے یہ ایک حکمت عملی ہے کہ وہ بھی مباحثات میں سخت حملوں کا سخت جواب دیں لیکن یہ طرز پھر بھی کچھ قابل تعریف نہیں بلکہ اس سے تحریرات کا روحانی اثر گھٹ جاتا ہے اور کم سے کم نقصان یہ ہے کہ اس سے ملک میں بد اخلاقی پھیلتی ہے۔یہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ عام طور پر ایک سخت قانون جاری کر کے ہر ایک مذہبی گروہ کو سخت الفاظ کے استعمال سے ممانعت کر دے تا کہ کسی قوم کے پیشوا اور کتاب کی تو ہین نہ ہو۔اور جب تک کسی قوم کی معتبر اور مسلّم کتابوں سے واقعاتِ صحیحہ معلوم نہ ہوں جن سے اعتراض پیدا ہوسکتا ہو کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔ایسے قانون سے ملک میں بہت امن پھیل جائے گا اور مفسد طبع فتنہ انگیز لوگوں کے منہ بند ہو جائیں گے۔اور تمام مذہبی بحثیں علمی رنگ میں آجائیں گی۔اسی غرض سے میں نے ایک درخواست گورنمنٹ میں پیش کرنے کے لئے تیار کی ہے اس کے ساتھ کئی ہزار