حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 35
حیات احمد ۳۵ جلد پنجم حصہ اوّل مسلمانوں کے دستخط بھی ہیں مگر چونکہ اب تک کافی دستخط نہیں ہوئے اس لئے ابھی تک توقف ہے۔مگر در حقیقت یہ ایسا کام ہے کہ ضرور اس طرف گورنمنٹ کی توجہ چاہیے۔حفظ امن کے لئے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں کہ ہتک آمیز اور فتنہ انگیز الفاظ سے ہر ایک قوم پر ہیز کرے اور کسی مذہب پر وہ الزام نہ لگائے جس کو اُس مذہب کے حامی قبول نہیں کرتے اور نہ ان کی مسلم اور معتبر کتابوں میں اس کا کوئی اصل صحیح پایا جاتا ہے اور نہ ایسا الزام لگائے جو اُس کی مسلم کتابوں میں اس کا کوئی اصل صحیح پایا جاتا ہے اور نہ ایسا الزام لگائے جو اس کی مسلم کتابوں یا نبیوں پر بھی عائد ہوتا ہے اور جو شخص اس ہدایت کے خلاف کرے اس کے لئے کوئی سزا مقرر ہو۔بغیر اس تدبیر کے مذہبی فتنوں کا زہریلا پیج بکلی دور نہیں ہوسکتا۔ایک میموریل کی تحریک ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۶۹-۱۷۰ مطبوعه بار دوم ) اسی اشتہار ۲۰ ستمبر ۱۸۹۷ء میں آپ نے مذہبی مناظرات میں صورت امن پیدا کرنے کے لئے ایک میموریل حکومت ہند کو بھیجنے کی تجویز کی اگر چہ آپ نے اس سلسلہ میں ۲۳ رستمبر ۱۸۹۵ء کو بھی توجہ دلائی تھی جس کا تفصیلی ذکر میں پچھلی جلد میں کر آیا ہوں آپ اس تحریک سے کبھی سست نہیں ہوئے بلکہ آپ کی زندگی کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ مذہبی مناظرات کی اصلاح کے لئے ہمیشہ توجہ دلاتے رہے اور اس کی ابتدا اس مطالبہ سے کی تھی کہ ہر فریق اپنے مذہب کی صداقت یا تعلیم کی خوبی اور فضیلت کے متعلق اپنی ہی کتاب سے دعوئی اور دلیل پیش کرے۔یہ امتیاز صرف اسلام ہی کے ساتھ مختص تھا اور آپ ہی پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے دوسرے مذاہب پر اسلام کی فتح کے لئے یہ حربہ پیش کیا۔غرض آپ ہمیشہ سے چاہتے تھے مارٹن کلارک کے مقدمہ میں جب آپ کی بعض تحریروں کے متعلق اعتراض کیا گیا تو آپ نے جواب پیش کیا۔جو اوپر درج ہو چکا ہے با ایں ہمہ آپ نے