حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 33
حیات احمد ۳۳ جلد پنجم حصہ اول زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص صفحه ۵۵۷۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۶۵) کتاب البریہ کی اشاعت گزشتہ اشاعت میں کتاب البریہ کی اشاعت کا سرسری ذکر مولوی محمد حسین صاحب کے مطالبہ کرسی کے ضمن میں آ گیا۔یہ کتاب جنوری ۱۸۹۸ء کے آخری ہفتہ میں شایع ہوئی جس میں مقدمہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کی پوری روئداد ہے اور اسی سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی سوانح حیات کا مختصر تذکرہ بھی فرمایا ہے جس میں آپ نے ان انعامات الہیہ کا بھی ذکر کیا جو آپ پر ہوئے اور اپنے اُن مجاہدات صوم کا ذکر کیا جو ایک رؤیا کی بنا پر ۶ ماہ تک لمبا ہوا۔اور آپ نے عیسائیوں کی ان تالیفات کے بعض اقتباسات بھی دیئے جو انہوں نے اسلام کے خلاف نہایت دریدہ دہنی سے لکھے ہیں۔یہ اقتباسات اس غرض سے دیئے تا کہ یہ ظاہر کر دیا جاوے کہ آپ نے قلمی حملوں کا صرف جواب دیا ہے اور آئندہ کے لئے حرب مذاہب میں آشتی اور امن پیدا کرنے کے طریقوں کو بھی ایک اعلان کے ذریعہ ظاہر کیا جو ۲۰ رستمبر ۱۸۹۷ء کے اشتہار واجب الاظہار کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔اس کے دو اقتباس پچھلی دو جلدوں میں دیئے ہیں لیکن بعض نہایت اہم میں ذیل میں دیتا ہوں یہ پورا اشتہار کتاب البریہ کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔مخالفین کی دل آزار تحریروں کا جواب یہ بات بھی میں تسلیم کرتا ہوں کہ مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں۔مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے جن کے مقابل پر کسی قدر سختی مصلحت تھی۔اس کا ثبوت اس مقابلہ سے ہوتا ہے جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مسل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کئے ہیں جس کا نام میں نے کتاب البريت رکھا ہے اور با ایں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی