حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 472
حیات احمد ۴۷۲ جلد پنجم حصہ اول ہیے۔(ب) اور پھر فرمایا :۔لوگ آئے اور دعوی کر بیٹھے شیر خدا نے ان کو پکڑا شیر خدا نے فتح پائی۔“ اور پھر فرمایا۔بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلندتر محکم افتادی۔پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار۔وروشن شدنشان ہائے من۔بڑا مبارک وہ دن ہوگا۔اربعین نمبر ۳ صفحه ۳۳۸ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۲۹) ہے۔جس رات میں نے اپنے اس دوست کو یہ باتیں کے سمجھا ئیں تو اسی رات مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ حالت ہو کر جو وحی اللہ کے وقت میرے پر وارد ہوتی ہے وہ نظارہ گفتگو کا دوبارہ دکھلایا گیا اور پھر الہام ہوا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى یعنی خدا نے مجھے اس آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کے متعلق سمجھایا ہے وہی معنی صحیح ہیں“۔اربعین نمبر ۳ صفحه ۷ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۳۶) خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس قدر اس بیت اللہ کو مخالفین گرانا چاہیں گے اس میں سے معارف اور آسمانی نشانوں کے خزانے نکلیں گے۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ ہر یک ایزا کے وقت لے اس فقرے سے مراد کہ محمد یوں کا پیر اونچے منار پر جا پڑا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں جو آخر الزمان کے مسیح موعود کے لئے تھیں جس کی نسبت یہود کا خیال تھا کہ ہم میں سے پیدا ہوگا اور عیسائیوں کا خیال تھا کہ ہم میں سے پیدا ہو گا مگر وہ مسلمانوں میں سے پیدا ہوا اس لئے بلند منار عزت کا محمد یوں کے حصہ میں آیا اور اس جگہ محمدی کہا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ اب تک ظاہری قوت اور شوکت اسلام دیکھ رہے تھے جس کا اسم محمد مظہر ہے اب وہ لوگ بکثرت آسمانی نشان پائیں گے جو اسم احمد کے مظہر کو لازم حال ہے کیونکہ اسم احمد انکسار اور فروتنی اور کمال درجہ کی محویت کو چاہتا ہے جو لازم حال حقیقت احمدیت اور حامدیت اور عاشقیت کے لازم حال صدور آیات تائید یہ ہے“۔(اربعین نمبر ۳ صفحہ ۳۸ حاشیه روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۴۲۹) یعنی آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيلِ کے متعلق۔(خاکسار مرتب)