حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 460
حیات احمد ۴۶۰ جلد پنجم حصہ اول ہے اُس پر اپنے حملوں کے ساتھ گر رہے ہیں۔مگر وہ کہتا ہے کہ میرا پیارا مجھ سے بہت قریب ہے، وہ قریب تو ہے مگر مخالفوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔(حقیقۃ الوحی صفحه ۲۶۶ تا ۲۷۱۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۷۸ تا ۲۸۳) حلا حاشیہ۔یہ پیشگوئی قبل از وقت بلکہ کئی مہینے فیصلہ سے پہلے عام طور پر شائع ہو چکی تھی اور الحکم اخبار میں درج ہو کر دور دراز ملک کے لوگوں تک اس کی خبر پہنچ چکی تھی پھر فیصلہ کا دن آیا۔۔۔سوایسا اتفاق ہوا کہ اس دن ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین کو خیال آیا کہ پرانی مثل کا انڈیکس دیکھنا چاہیے یعنی ضمیمہ جس میں ضروری احکام کا خلاصہ ہوتا ہے جب وہ دیکھا گیا تو اس میں وہ بات نکلی جس کے نکلنے کی توقع نہ تھی یعنی حاکم کا تصدیق شدہ یہ حکم نکلا کہ اس زمین پر قابض نہ صرف امام الدین ہے بلکہ مرزا غلام مرتضی یعنی میرے والد صاحب بھی قابض ہیں۔تب دیکھنے سے میرے وکیل نے سمجھ لیا کہ ہمارا مقدمہ فتح ہو گیا۔حاکم کے پاس یہ بیان کیا گیا اس نے فی الفور وہ انڈیکس طلب کیا اور چونکہ دیکھتے ہی اس پر حقیقت کھل گئی اس لئے اس نے بلا تو قف امام الدین پر ڈگری زمین کی بمعہ خرچہ کر دی۔اگر وہ کاغذ پیش نہ ہوتا تو حاکم مجوز بجز اس کے کیا کر سکتا تھا کہ مقدمہ کو خارج کرتا اور دشمن بدخواہ کے ہاتھ سے ہمیں تکلیفیں اٹھانی پڑتیں۔یہ خدا کے کام ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور یہ پیشگوئی درحقیقت ایک پیشگوئی نہیں بلکہ دو پیشگوئیاں ہیں کیونکہ ایک تو اس میں فتح کا وعدہ ہے اور دوسرے ایک امر مخفی کے ظاہر کرنے کا وعدہ ہے جو سب کے نظر سے پوشیدہ تھا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۷۲٫۲۷۱۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۸۴،۲۸۳) خاکسار مرتب عرض کرتا ہے کہ اس وحی الہی کے الفاظ وَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى سے ثابت ہوتا ہے کہ جس فتح و ظفر کا اور دشمن کی نامرادی اور نامرادی کا اور تباہی کا وعدہ دیا گیا ہے وہ مقدمہ دیوار میں ہماری کامیابی اور دشمن کی نا کامی تک محدود نہیں۔بلکہ یہ اس کی پہلی کڑی ہے اور اس کے بعد فریق مخالف پر اور اس کے سرگروہ پر تباہی آئے گی چنانچہ اس کے قریباً چار سال بعد امام الدین مذکور ۱۹۰۴ء میں ہلاک ہوا اور اس کے بعد اس کے ساتھی یکے بعد دیگرے مٹتے چلے گئے حتی کہ جن مکانات میں وہ لوگ سلسلہ احمدیہ کے خلاف منصوبے کیا کرتے تھے وہ اب سلسلہ کے دفاتر بن گئے ہیں۔(فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَی ذَالِکَ ) مذکورہ بالا فیصلہ جیسا کہ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۰ پر چہ ۱۷ را گست ۱۹۰۱ ء سے معلوم ہوتا ہے۔۱۲ اگست ۱۹۰۰ء کو ہوا۔جس میں ڈسٹرکٹ حج گورداسپور نے دیوار گرانے اور سفید میدان میں کسی جدید تعمیر نہ کرنے کا دوامی حکم دیا اور ایک سور و پید بطور حرجانہ مدعی کو علاوہ اخراجات مقدمہ کی دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا جسے حضرت اقدس نے کمال فیاضی سے مرزا امام الدین کی درخواست پر اسے معاف کر دیا۔