حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 28 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 28

حیات احمد ۲۸ جلد پنجم حصہ اول تشریف فرما تھے عدالتی کا روائی کو حضور نے دوہرایا اور اس کے ساتھ ہی مولوی محمد حسین کے مطالبہ کرسی اور صاحب بہادر کی جھڑ کیوں کا ذکر تفصیل سے فرمایا۔جس سے اردلی کے بیان کی من وعن تصدیق ہوئی اور اس طرح خود خدا کے نبی ورسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک سے بھی اس واقعہ کے سننے کی عزت وسعادت ہمیں نصیب ہوئی حضور اس واقعہ کا ذکر بار بار فرماتے اور دوہراتے رہے اور ساتھ ہی تعجب فرماتے رہے کہ دراصل ”حسد و بغض کی آگ نے اس سے یہ حرکات کرائیں ہمارا کرسی پر بیٹھناوہ برداشت نہ کر سکا اور نہ کرسی نہ مانگتا نہ یہ کچھ ہوتا حقیقت میں خدائی تصرف اور انہی ہاتھوں نے یہ کام کرائے تا خدا کے منہ کی باتیں پوری ہو کر تازہ نشانوں سے مومنوں کو قوت ونور حاصل ہو“۔اس موقعہ پر کمرہ عدالت سے باہر جو کچھ گزری یعنی کپڑے کا واقعہ پولیس کی کرسی کا معاملہ وہ احباب نے عرض کیا تو حضور مسکرائے اور پھر اتنے ہنسے کہ عادت شریف کے مطابق حضور کی آنکھوں میں پانی بھر آیا اور سُبْحَانَ اللهُ سُبْحَانَ اللہ کہتے ہوۓ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَكَ کے کلام الہی کو بار بار یاد فرماتے اور پھر سُبْحَانَ الله - سُبْحَانَ اللہ اور سُبْحَانَ اللہ کے ورد میں لگے رہے۔حضرت اقدس نے یہ بات بھی سنادی کہ " جرح کے دوران میں ہمارے وکیل یعنی مولوی فضل دین صاحب آف لاہور نے مولوی محمد حسین پر ایک جرح کرنی چاہی مگر ہم نے اس کی اجازت نہ دی ہمارے وکیل نے اصرار بھی کیا اور کہا کہ وہ تو آپ کی موت کے سامان اور پھانسی کی تیاریوں میں لگا ہوا ہے اور آپ اس کی عزت بچاتے اور اس پر رحم کرتے اور فرماتے ہیں کہ اس میں اس بیچارے کا کیا قصور، تعجب ہے۔“ مگر با وجود وکیل صاحب کے اصرار کے حضور نے اس قسم کی اجازت نہ دی اور اس طرح جہاں مولوی محمد حسین کی ذات اور اولا دو نسل پر کبھی نہ ختم ہونے والا احسان فرمایا وہاں آپ نے اخلاق محمدی اور خلق عظیم کی بھی ایسی ایک بے نظیر مثال قائم کر دی جو رہتی دنیا تک چاند اور سورج کی طرح چمکتی اور سنہرے حروف سے لکھی جاتی رہے گی۔مولوی فضل دین صاحب وکیل باوجود غیر احمدی ہونے کے ہمیشہ اس امر سے اتنے متاثر رہے کہ جہاں اس واقعہ کا ذکر عموماً کرتے