حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 29 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 29

حیات احمد ۲۹ جلد پنجم حصہ اول رہتے وہاں حضرت کے خلاف کوئی کلمہ سننا گوارا نہ کیا کرتے تھے ایسے ذکر اذکار سے فارغ ہوکر نمازیں پڑھی گئیں۔نماز سے فراغت پا کر حضور نے فرمایا۔”میاں عبدالرحمن آج رات ہم تو یہیں ٹھہریں گے کیونکہ کل پھر مقدمہ کی سماعت ہوگی بہتر ہے کہ آپ قادیان خبر خیریت پہنچادیں تا کہ وہ لوگ گھبرائیں نہیں آپ رات کو ہوشیار رہیں ہم بھی انشاء اللہ تعالی کل فارغ ہو کر پہنچ جائیں گے۔حکم پا کر میں نے سلام عرض کیا دست بوسی کا شرف ملا اور میں سفر کو کاٹتا۔زمین کو لپیٹتا ہوا۔گویا اڑ کر ہی قادیان پہنچا۔سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور خاندان کی بیگمات و اراکین کی خدمت میں حاضر ہو کر آج کی تمام روئداد تفصیلاً عرض کی۔اور حضرت کے ارشاد کے مطابق تسلی و اطمینان دلایا اور اس طرح اللہ نے رات کے پہرہ کی خدمت کا بھی موقعہ دے کر نوازا فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔محترم شیخ محمد اسمعیل صاحب سرساوی فرماتے ہیں کہ وہ صبح کو بٹالہ گئے اور اسی روز قادیان واپس آئے تھے۔مقدمہ جیسا کہ فیصلہ سے ظاہر ہے محض ایک سازش کا نتیجہ اور جھوٹ و بناوٹ کا منصوبہ تھا اور جہاں اس سے اس مقدمہ کی پیروی و تائید اور حمایت و امداد کرنے والوں کی اخلاقی گراوٹ اور فطری پستی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے وہاں ان کے دین دھرم کے بطلان امانت و دیانت کے فقدان اور شرافت و نجابت سے عاری کورے اور دیوالیہ ہونے کا بھی بین ثبوت ملتا ہے اس سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی مظاہرہ سفاہت و یکمینگی اور رذالت و جہالت کا دنیا میں ممکن ہوسکتا ہے کہ دین و دھرم کے پیشوا اور حق و حقیقت کے مدعی الكُفْرُ مِلَّةً وَاحِدَةً ایک جھوٹ بنا کر افترا کھڑا کر کے بہتان و بطلان باندھ کر مل بیٹھیں اور ایک ناکردہ گناہ معصوم و مقدس انسان کو قاتل و سفاک گرداننے کی ہر ممکن کوشش ہر ممکن امداد حتی کہ جھوٹ تک کی نجاست پر منہ مارنے سے بھی پرہیز نہ کیا جائے۔عیسائی کیا آریہ کیا۔اور کیا نام کے مسلمان سب مل کر ایک کمان سے تیر چلائیں وکالت کریں تو رضا کارانہ ومفت۔شہادت دیں تو بے بلائے اور عداوت و بغض کے باعث یا حسد کی جلن مشتعل ہوکر بلکہ بالکل