حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 419
حیات احمد ۴۱۹ جلد پنجم حصہ اول پیر مہر علی شاہ گولڑوی مخالفین کی صف میں گولڑہ ضلع راولپنڈی میں ایک گڑی ہے جس کے سجادہ نشین اس وقت (۱۹۰۰ء) میں پیر مہر علی شاہ صاحب تھے عام مشایخ اور صوفیا کی طرح وہ بظاہر تو خانہ نشین تھے اور حضرت اقدس نے جب بھی صوفیوں اور مشایخین کو دعوت مقابلہ دی تو ان میں سے کوئی میدان میں نہ آیا اور اکثر اپنے مریدین کے حلقہ میں جب ایسا سوال ہوتا تو وہ کہہ دیتے فقراء ایسے جھگڑوں میں نہیں آتے یہ علماء کا کام ہے ہمارا مقصد تو صلح کل ہے اور اسی طرح پر اپنا دامن چھڑا لیتے اور اپنے عمل سے بتاتے نہ انکار میکنم نه این کار می کنم ان گدی نشینوں میں سے یہ سعادت حضرت غلام فرید صاحب سجادہ نشین چاچڑاں شریف کے حصہ میں آئی کہ انہوں نے حضرت اقدس کی تحریراً بھی تصدیق فرمائی اور اپنی مجالس میں جب استفسار ہوا تو صاف صاف عزت و احترام کے ساتھ آپ کا ذکر فرمایا عام طور پر یہ جماعت خاموش رہی البتہ جو اپنی علمی لاف زنی اور پیری مریدی کا سلسلہ رکھتے تھے انہوں نے اپنی مجلسوں میں مخالفت تو کی مگر میدان میں وہ بھی نہ آئے اب تک ان میں سے کوئی مرد میدان ثابت نہیں ہوا۔اس اثناء میں گولڑہ کے پیر صاحب کو لاف مقابلہ کا حوصلہ ہوا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے بعض مخلص اور ممتاز مریدوں نے سلسلہ حقہ کی صداقت کا اعتراف کیا اور سلسلہ بیعت میں منسلک ہو گئے اور یہ لوگ اپنی وجاہت اور پارسائی کے لئے ممتاز اور مشہور تھے۔جیسے حضرت حکیم شاہنواز صاحب ملتانی، حضرت بابو فیروز علی صاحب سٹیشن ماسٹر، حضرت بابوشاہ دین صاحب سٹیشن ماسٹر، حضرت بابوعطا الہی صاحب حَمِيَهُمُ اللهُ تَعَالیٰ ان کے سلسلہ میں داخل ہو جانے کی وجہ سے گولڑوی جماعت میں ایک زلزلہ آیا اور خطرہ ہوا کہ دوسرے مریدوں پر اثر نہ پڑے۔