حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 418 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 418

حیات احمد ۴۱۸ جلد پنجم حصہ اوّل و, مرزا غلام احمد اور اس کے مریدوں سے نہ مباحثات کئے جاویں اور نہ ان کی تحریروں کا جواب دیا جائے ورنہ اس سے عیسائیت کے خلاف ایک بہت بڑا ذخیرہ لٹریچر (مفہوم) کا تیار ہو جائے گا“۔غرض اس طرح پر عیسائیت پر آتھم کے ساتھ مباحثہ کے بعد دوسری مرتبہ اتمام حجت اور کسر صلیب کا مشاہدہ ہوا۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ مناسب ہوگا کہ وہ مسائل بھی درج کر دیئے جائیں جن پر بحث کا چیلنج دیا گیا تھا۔جن مسائل میں تحریری مباحثہ ہونا چاہیے وہ حسب ذیل ہیں۔(۱) ان دونوں نبیوں حضرت مسیح علیہ السلام اور جناب محمد مصطفی ﷺ میں سے کس نبی کی نسبت اس کی کتاب کی رو سے اور نیز دوسرے دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کامل طور پر معصوم ہے۔(۲) ان دونوں بزرگوار نبیوں علیہما السلام میں سے کون ساوہ نبی ہے جس کو اس کی کتاب وغیرہ دلائل کی رو سے زندہ رسول کہہ سکتے ہیں جو اتنی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے۔(۳) ان دونوں بزرگوار نبیوں علیہا السلام میں سے کون ساوہ نبی ہے جس کو اُس کی آسمانی کتاب وغیرہ دلائل کی رو سے شفیع کہہ سکتے ہیں۔(۴) ان دونوں مذہبوں عیسائیت اور اسلام میں سے کون سا وہ مذہب ہے جس کو ہم زندہ مذہب کہہ سکتے ہیں۔(۵) ان دونوں تعلیموں انجیلی تعلیم اور قرآنی تعلیم میں سے کون سی وہ تعلیم ہے جس کو ہم کچی اور اعلی تعلیم کہہ سکتے ہیں اور تعلیم میں توحید اور تثلیث کی بحث بھی داخل ہے۔“ اس مناظرہ کی شرائط یہ تھیں کہ ” مناظرہ بمقام لا ہور ہوگا اور تحریری ہوگا۔ہر مسئلہ پر بحث میں ایک دن خرچ ہوگا۔گویا پانچوں مسائل پر پانچ دن خرچ ہوں گے ہر ایک فریق پورے تین تین گھنٹے لے گا۔ہر ایک فریق محض اپنے نبی یا کتاب کی نسبت ثبوت دے گا دوسرے فریق کے نبی یا کتاب کی نسبت حملہ کرنے کا مجاز نہ ہوگا کیونکہ ایسا حملہ فضول اور بسا اوقات دل شکنی کا موجب ہوتا ہے۔بعد میں یہ مناظرہ شائع کیا جائے گا۔اور اپنی طرف سے ملانے کا کسی کو حق نہ ہوگا۔