حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 420 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 420

حیات احمد ابتدائی تحریک ۴۲۰ جلد پنجم حصہ اول اس لئے پیر صاحب نے سستی شہرت کے لئے مقابلہ کا اعلان کیا اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بر خلاف شَمُسُ الْهَدَاية کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں وفات مسیح کے مسئلہ پر بحث کی اور بزعم خود حیات مسیح کو ثابت کیا اور عجیب تر بات یہ کی کہ اس میں بعض ایسی کتابوں کے حوالے دیئے جو ہندوستان میں ملنی مشکل تھیں اور پیر صاحب کے پاس قطعا نہ تھیں اس کتاب کے مطالعہ پر حضرت حکیم الامت نے حضرت پیر صاحب کو ایک خط لکھا جس میں ان بعض تفاسیر کے متعلق اور کچھ منطقی مسائل پر جو پیر صاحب نے لکھے تھے ان کے متعلق استفسار کیا۔جواب میں پیر صاحب سے کچھ بھی نہ بن آیا اور ٹلایا یہ سب تفصیلی حالات اس جگہ لکھنے کا موقع نہیں کہ کتاب کا حجم بہت بڑھ جائے گا اور مختلف رسالہ جات میں یہ واقعات تفصیلاً آئے ہیں علاوہ ازیں پیر صاحب کا معاملہ ۱۹۰۰ء سے شروع ہو کر ۱۹۰۳ء تک لمبا ہو گیا تھا اس لئے آئندہ کسی قدر تفصیل بھی آجائے گی۔بہر حال اس خط و کتابت سے پیر صاحب کو باہر آنا پڑا۔شمس بازغہ پنیر صاحب کی اس کتاب کا جواب شمس بازغہ کے نام سے حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہی مرحوم و مغفور نے لکھا اور خوب لکھا جس کا جواب نہ ہوسکا۔اس جواب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ معارضہ بالقلب کے طور پر لکھا گیا ہے۔حضرت اقدس کی دعوت مقابلہ روحانی جب یہ سلسلہ لمبا ہونے لگا تو حضرت اقدس سے قول فیصل کے طور پر پیر صاحب کو دعوت مقابلہ دی اور یہ دعوت قرآن کریم کی روشنی میں معیار صداقت تھی چنانچہ آپ نے ۳۰ جولائی ترجمہ۔یوں سوئے رہے گویا کہ مردے ہیں۔