حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 415 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 415

حیات احمد ۴۱۵ جلد پنجم حصہ اول ہم کسی دوسرے صفحہ پر ایک نہایت ہی دلچسپ مذہبی چیلنج جو مسلمانوں کے اس فرقے کی طرف سے جو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے پیرو ہیں لا ہور کے بشپ کے نام دیا گیا ہے نقل کرتے ہیں اس کی بڑی دلچسپی کی وجہ یہ بھی ہے کہ نہایت سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی قادیان کے رئیس ہیں اور اس چیلنج میں ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف مسیح موعود ہونے کا دعوئی ہی کرتے ہیں بلکہ اس دعویٰ کو مضبوط اور قاطع دلیلوں کے ساتھ انہوں نے ثابت کر دکھایا ہے اور اپنے آپ کو وہ موعود ثابت کیا ہے جس کے آنے کی پیشگوئیاں قرآن مجید اور بائبل میں بیان کی گئی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس مشہور شخص کے پیرو دنیا کے مختلف حصوں میں تمہیں ہزار کے قریب ہیں اور ان کے دوست اور مریدوں سے چاہتے ہیں کہ وہ لاہور کے بشپ کے ساتھ جن کے لیکچروں نے مسلمانوں کو قائل کر دیا ہے کہ وہ اپنے مذہبی علوم میں لاثانی ہے مذہب اسلام اور عیسائیت کی سچائی پر ایک فاضلانہ اور معقول بحث کریں۔بشپ صاحب کا وسیع علم اور تجربہ اوران کی عربی فارسی اور اردو سے واقفیت اور ان کے مہذبانہ اور عمدہ اخلاق بھی بطور وجوہات بیان کئے گئے ہیں کہ کیوں خصوصاً انہی کو اسلام کے اس پہلوان کے ساتھ مباحثہ کے لئے بلایا گیا ہے چیلنج سارے کا سارا نہایت مودبانہ الفاظ میں ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس تجویز کے مجوز بڑی خواہش اس امر کی رکھتے ہیں کہ عیسائیت اور اسلام ( نہ اسلام اور عیسائیت ) کا بالمقابل فضائل اور خوبیوں پر ایک باقاعدہ اور عمدہ مباحثہ ہو جس میں دونوں فریق کے لئے منصفانہ شرطیں پیش کی گئیں ہیں اور چیلنج دینے والے جن کی تعداد بہت بڑی ہے ہندوستان کے مختلف حصوں سے ہیں اور بشپ صاحب کو یسوع مسیح کے نام کی خبر دے کر ان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ضرور اس مباحثہ پر رضامند ہو جائیں گے ہماری رائے ہے کہ بشپ صاحب اگر اس چیلنج کو منظور کر لیں تو بہت اچھا ہوگا خود بخود ایک ایسی بڑائی اختیار کر لینا جو مباحثہ کے لئے بھی جھک نہیں سکتی ان کی غلطی ہوگی کیونکہ پھر چیلنج دینے والے یہ کہنے کے حقدار ہوں گے کہ چونکہ فریق ثانی نے اپنے مقدمہ کے ڈیفنڈ (مدافعت ) نہیں کیا اس لئے اس کی عدم پیروی کے سبب سے فیصلہ ان کے حق میں ہونا چاہیے اور اس طرح پر وہ فتح کے