حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 416
حیات احمد ۴۱۶ جلد پنجم حصہ اوّل دعویدار ہوں گے نیز یہ امر کہ مرزا غلام احمد قادیانی وہ موعود شخص نہیں ہے جس کی آمد کے متعلق قرآن شریف اور بائبل میں پیشگوئیاں ہیں بشپ کا مقابلہ کرنے سے انکار کے لئے کوئی دلیل نہیں یہ سوال مجوزہ مباحثہ میں پیش نہیں ہوگا لیکن ممکن ہے کہ اگر بشپ صاحب چیلنج منظور کر لیں تو اپنے مخالف کو اس غلطی کا بھی قائل کر دیں۔یہ امر کہ مسلمان اپنے مسیح کو بشپ کے بالمقابل میدان مباحثہ میں پیش کرتے ہیں یہ بشپ صاحب کی علمیت کی بڑی سے بڑی تعریف ہے جو وہ کر سکتے ہیں اس طرح پر وہ یہ جتانا چاہتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں بشپ صاحب کو عیسائی مذہب میں اوّل درجہ کا فاضل مانتے ہیں ہم یہ بھی نہیں سمجھ سکتے کہ بشپ کسی طرح یہ عذر کر سکتے ہیں کہ ایسے عمدہ مباحثہ میں ان کے وقت کا بڑا حصہ صرف ہو جائے گا۔ان کو ایسے مخالفوں کی تردید کرنے اور ان کے قائل کرنے کا یہ موقع کسی طرح بھی ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے خصوصاً جبکہ ان سے یہ ثابت کرنے کی خواہش کی گئی کہ عیسائیت اور اسلام ہر دو مذہب میں سے کون سا مذ ہب زندہ کہلا سکتا ہے اور قرآن مجید اور دونوں کی تعلیمات میں سے کس کی تعلیم زیادہ افضل اور انسانی فطرت کے مطابق ہے ہم پسند کریں گے اگر چیلنج منظور کر لیا جائے کیونکہ ہمارے خیال میں یہ نہایت ہی دلچسپ ثابت ہوگا“۔(۳) انڈین اسپیکٹیٹر مشہور انگریزی اخبار نے بشپ کے انکار پر ذیل کے کلمات لکھے۔معلوم ہوتا ہے کہ لاہور کے بشپ نے متانت کو چھوڑ کر جلد بازی کے ساتھ ایک ایسے چیلنج سے گریز اختیار کی ہے جس کا محرک وہ پہلے خود ہی ہوا تھا کچھ عرصہ ہوا کہ بشپ نے مسلمان حاضرین کے سامنے مسیح کی صداقت کا ثبوت پیش کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور اس دعوت کو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جس کے دعوئی مسیحیت کی نسبت ہم پیشتر ازیں اسی اخبار میں ذکر کر چکے ہیں قبول کر لیا اب خواہ مرزا غلام احمد قادیانی مفتری ہو اور خواہ وہ اپنے آپ کو واقعی مسیح موعود سمجھتا ہو دونوں حالتوں میں کوئی وجہ نہیں کہ بشپ اس کے ساتھ مباحثہ کرنے سے انکار کرے بشپ کا بیان ہے کہ مرزا صاحب نے مسیح کہلا کر ایک طوفانی ہتک اور بے عزتی مسیح کی کی ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ دو ہزار سال گزرے ہیں اسی وجہ پر یہودیوں نے یسوع کو صلیب دی تھی اس کے مسیح کہلانے پر انہوں نے ہتک