حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 414
حیات احمد ۴۱۴ جلد پنجم حصہ اول سیکرٹری مکرم مولوی محمد علی صاحب مرحوم مقرر کئے گئے تھے انہوں نے ۰ار جولائی ۱۹۰۰ء کو قادیان سے ایک مفصل جواب بشپ کے عذرات کی تردید میں لکھا اور یہ جواب معزز ذی علم احباب کی طرف بھیجا گیا جس میں خصوصیت سے بشپ صاحب کو توجہ دلائی کہ جب آپ نے خود مباحثہ کا چیلنج دیا ہے تو اب جبکہ اس کو منظور کر لیا گیا ہے آپ کا انکار مناسب نہیں۔بشپ صاحب کو اعتراض تھا کہ وہ حضرت اقدس سے مباحثہ نہیں کرنا چاہتے کہ ان کے خلاف فتویٰ کفر ہے لیکن جب غیر احمدی مسلمانوں نے بھی آپ کو اپنا نمائندہ اور وکیل مقرر کرنے کا اقرارتحریری کیا تو انکار کا کوئی حیلہ باقی نہ رہا۔لا چار بشپ صاحب نے ایک اور راہِ فرار اختیار کی اوّل تو صاف انکار کیا کہ مجھے یہ مباحثہ منظور نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ میں عراق جا رہا ہوں اور سفر عراق کا بہانہ کرتے وقت وہ ساری مصروفیات جن کا ذکر اس نے اپنی چٹھی میں کیا تھا بھول گئیں۔چنانچہ اس کے اس انکار کو الحکم ۷ار جون ۱۹۰۰ء میں شائع کر دیا گیا۔لاہور کے لاٹ پادری نے اس درخواست مباحثہ سے انکار کیا جو حضرت مسیح کا واسطہ دے کر ایک معزز جماعت نے انگریزی اردو میں چھپوا کر اس کے پاس بھیجی تھی افسوس کی بات ہے کہ بشپ صاحب نے مسیح علیہ السلام کی قسم کا بھی کچھ لحاظ نہ کیا۔اخبارات کی آراء بشپ صاحب کے نام جو چیلنج مباحثہ میں منظور کر لیا گیا تھا اس کی اشاعت اردو اور انگریزی پریس اور پبلک میں کی گئی۔انگریزی اخبارات نے جو انگریزوں کے اخبارات تھے اور ان کے ایڈیٹر خود مسیحی تھے بشپ صاحب کو اس مباحثہ کے لئے ہر طرح آمادگی کے لئے اکسایا مگر وہاں ایک نہیں سب کے جواب میں نفی تھی ان میں سے بعض کی رائے کا ترجمہ ذیل میں درج ہے۔(۱) پایونیر نے جب اس چیلنج کو شائع کیا تو یہ پرمعنی فقرہ اس کے اوپر لکھا تھا۔اگر ڈاکٹر لیفر ائے مقابلہ کرنا منظور کرلے تو بیشک یہ مباحثہ نہایت ہی دلچسپ ہوگا۔(۲) انڈین ڈیلی ٹیلی گراف نے اپنی ۱۹ جون ۱۹۰۰ء کی اشاعت میں لکھا تھا۔