حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 413
حیات احمد ۴۱۳ جلد پنجم حصہ اوّل گئے اسلام کی اس فتح کا ذکر ہر گلی کوچے اور ہر گھر میں ہورہا تھا بشپ صاحب سمجھتے تھے کہ سستے چھوٹے مگر چونکہ ان کو حضرت اقدس نے مباحثہ کا چیلنج دیا تھا اور اس کی تحریک خود اس کا لیکچر تھا بشپ صاحب نے خاموشی اختیار کر لی۔ایک وفد کے ذریعہ مطالبہ حضرت اقدس نے دو ہفتہ انتظار کر کے ۸/ جون ۱۹۰۰ء کو ایک معزز وفد کے ذریعہ بشپ صاحب سے اس دعوت مناظرہ کا جواب طلب کیا اس جماعت میں نہ صرف احمدی جماعت کے بزرگ شامل تھے بلکہ غیر احمدی معز اور تعلیم یافتہ مسلمانوں کی جماعت بھی تھی۔بشپ صاحب نے چیلنج کے مضمون کو پڑھے بغیر تو کسی قدر آمادگی کا اظہار کیا اور وفد کو رخصت کیا مگر جب معلوم ہوا کہ مقابل میں حضرت اقدس ہیں تو وفد کومکرر بلا کر کہا کہ مجھے فرصت نہیں میں شملہ جارہا ہوں۔معزز اراکین نے ہر چند اصرار کیا مگر وہاں بجز انکار اور عذر کے کچھ نہ تھا اپنی مصروفیت اور سفر شملہ کا بہانہ کیا لیکن جب وفد نے کہا کہ کچھ ہرج نہیں حضرت مرزا صاحب شملہ آجائیں گے وہاں ہی یہ مناظرہ ہو کر فیصلہ ہو جاوے۔اس پر بشپ صاحب نے کہا کہ شملہ جا کر جواب دوں گا، مگر شملہ جا کر اس نے ۱۳ / جون کو مباحثہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے مندرجہ ذیل جواب دیا۔اول تو مرزا غلام احمد صاحب سے میں مناظرہ کرنا نہیں چاہتا کیونکہ انہوں نے خطاب مسیح کا اختیار کیا ہے جو ہمارے خداوند یسوع کا ہے اور اس طرح انہوں نے میرے خداوندا اور مالک کی جس کی میں پرستش کرتا ہوں سخت ہتک کی ہے (۲) دوسرے مرزا صاحب نے عیسائیوں کی تعلیمات پر بڑے سخت حملے کئے ہیں (۳) تیسرے مرزا صاحب کو میں مسلمانوں کا وکیل نہیں مان سکتا کیونکہ بہت سے مسلمان ان کو کافر کہتے ہیں (۴) چوتھے یہ کہ میں اس ضلع کا بشپ ہوں مجھے عیسائی کلیساؤں کی حاجتیں پوری کرنے کا بہت شغل ہے اس لئے مجھے فرصت نہیں“۔بشپ لیفر ائے سے خط و کتابت کے لئے حضرت اقدس نے ایک کمیٹی مقرر کر دی تھی جس کے