حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 412
حیات احمد ۴۱۲ جلد پنجم حصہ اول خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۶/جون ۱۸۹۹ء تبلیغ رسالت جلد ۹ صفحه ۲۰ تا ۳۲- مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۳۸۹ تا ۳۹۸ طبع بار دوم ) بشپ لیفر ائے پر آخری اتمام حجت اور کسر صلیب کا ایک اور منظر بشپ لیفرائے نے ۲۵ مئی ۱۹۰۰ ء کو زندہ رسول کے موضوع پر تقریر کی ان کو خیال تھا کہ مسلمانوں کو مقابلہ کی ہمت نہ ہوگی اس لئے کہ ان غلط معتقدات پر مبنی تھے جن کا حقیقی اسلام میں نشان نہیں یا بعض کی حقیقت سے خود مسلمان بھی نا آشنا تھے لیکن جب اس کے لیکچر کا جواب حضرت اقدس کی طرف سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے پڑھا اور اس روز تین ہزار سے زائد سننے والے موجود تھے اور یہ تعداد اس زمانہ میں بہت بڑی تعداد حاضرین کی تھی جیسا کہ میں بشپ لیفرائے کے اس زمانہ کے جلسہ کا ذکر کر چکا ہوں جب وہ دہلی مشن کے پادری تھے تب انہوں نے وفات مسیح کے مسئلہ پر مسلمانوں کو احمدیوں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی تھی اور وں سے گفتگو نہ کرنے کا اظہار کیا تھا اس مرتبہ پھر ان کو اسی جماعت سے سابقہ پڑا اور وہ چونکہ مفتی صاحب کو وقت دینے کا وعدہ کر چکے تھے اس لئے زندہ رسول پر جواب سنتے ہوئے ان کی حالت نہ راہ رفتن نہ روئے ماندن کی سی تھی نہایت مایوسی اور ناکامی کے ساتھ وہ اس جلسہ سے اٹھے اور مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کسر صلیب کا ایک اور منظر پیش ہوا اس جلسہ میں بعض نادان مولوی بھی تھے اور وہ دبی زبان سے کہہ رہے تھے کہ ہم مرزائیوں کو کافر سمجھتے ہیں مگر بشپ سمجھتا تھا کہ یہ حربہ کارگر نہیں ہوسکتا اس نے کہا تھا میں مسلمانوں میں اختلاف بڑھانا نہیں چاہتا یہ ٹی باتیں ہیں جو میں نے آج سنی ہیں اس لئے میں ان کا کیا جواب دوں غرض نا کامی کی تصویر بن کر بشپ صاحب اور ان کے ساتھی جلسہ ختم کر کے نکل بقیہ حاشیہ۔تو مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کو چھاپ دوں گا آپ اس وقت عبدالحق ملہم شاگرد رشید عبداللہ غزنوی سے بھی مدد لیں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ( دستخط) المرسل خاکسار مرزا غلام احمد