حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 396
حیات احمد ۳۹۶ جلد پنجم حصہ اول فوق العادت خوارق ان سے صادر ہوتے ہیں اور فرشتے ان سے باتیں کرتے ہیں۔دعائیں ان کی قبول ہوتی ہیں۔اس کا نمونہ ایک میں ہی موجود ہوں کہ کوئی قوم اس بات میں ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔یہ تو دلیل حضرت محمد ﷺ کی زندگی پر ہے مگر حضرت مسیح کی زندگی پر کون سی دلیل آپ کے پاس ہے۔اتنا بھی تو نہیں کہ کوئی پادری صاحب یا مسیح! یا مسیح!! کر کے پکاریں اور آسمان سے مسیح کی طرف سے کوئی ایسی آواز آوے کہ تمام لوگ سن لیں اور اگر اس قدر ثبوت بھی نہیں تو محض دعویٰ قابل التفات نہیں۔اس طرح پر تو سکھ صاحب بھی کہتے ہیں کہ بابا نانک صاحب زندہ آسمان پر چلے گئے۔پھر جب ہم ان سب باتوں سے الگ ہو کر تاریخی سلسلہ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ سارے پردے درمیان سے اٹھ کر کھلی کھلی حقیقت نظر آجاتی ہے کیونکہ تاریخ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر نہ جانے کے تین گواہ ایسے پیش کئے ہیں جن سے قطعی طور پر یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ بات صرف اتنی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے اس قول کے مطابق کہ اُن کا قصہ یونس نبی کے قصے سے مشابہ ہے قبر میں مردہ ہونے کی حالت میں داخل نہیں ہوئے تھے جیسا کہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں مردہ ہونے کی حالت میں داخل نہیں ہوا تھا اور نہ وہ قبر میں مرے جیسا کہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں نہیں مرا تھا بلکہ یونس نبی کی طرح زندہ ہی قبر میں داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے کیونکہ ممکن نہیں کہ مسیح نے اس مثال کے بیان کرنے میں جھوٹ بولا ہو۔اس واقعہ پر پہلا گواہ تو یہی مثال ہے کہ مسیح کے منہ سے نکلی کیونکہ اگر مسیح قبر میں مردہ ہونے کی حالت میں داخل کیا گیا تھا تو اس صورت میں یونس سے اس کو کچھ مشابہت نہ تھی پھر دوسرا گواہ اس پر مرہم عیسی ہے۔یہ ایک مرہم ہے جس کا ذکر عیسائیوں اور یہودیوں اور مجوسیوں اور مسلمانوں کی طب کی کتابوں میں اس طرح پر لکھا گیا ہے کہ یہ حضرت مسیح کے لئے یعنی ان کی چوٹوں کے لئے طیار کی گئی تھی اور یہ کتابیں ہزار نسخہ سے بھی کچھ زیادہ ہیں جن میں سے بہت سی میرے پاس بھی موجود ہیں۔پس اس مرہم سے