حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 395 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 395

حیات احمد ۳۹۵ جلد پنجم حصہ اول رکھتا اور کوئی ذرہ ان کے جسم میں سے تلف ہونے نہ پاتا اور نہ تحلیل ہوتا۔تا ہی ظلم صریح لازم نہ آتا کہ بعض حصے مسیح کے جسم کے تو خاک میں مل گئے اور بعض حصے آسمان پر اٹھائے گئے اور اگر مسیح کے جسم کے ذرات تحلیل نہیں ہوئے تو کم سے کم صلیب کے وقت حضرت مسیح کا جسم پہلے جسم سے دس حصے زیادہ چاہیے تھا کیونکہ علم طبعی کی شہادت سے یہی ثبوت ملتا ہے اور یہ ثابت شدہ امر ہے کہ تین برس کے بعد پہلے جسم کے اجزاءتحلیل ہوکر کچھ تو ہوا میں مل جاتے ہیں اور کچھ خاک ہو جاتے ہیں۔سوچونکہ مسیح نے تینتیس برس کے عرصے میں دس جسم بدلے ہیں۔اُس کے آخری جسم کو آسمان پر پہنچانا اور پہلے جسموں کو خاک میں ملانا ایک ایسی بیہودہ حرکت ہے جس کی فلاسفی یقیناً بشپ صاحب کو بھی معلوم نہیں ہوگی۔اب جبکہ عقل اور انجیل اور قرآن شریف سے حضرت مسیح کا آسمان پر معہ جسم جانا ثابت نہیں بلکہ اس عقیدہ پر عقلی اور نفلی طور پر سخت اعتراضات کی بارش ہوتی ہے تو اس خیال کو پیش کرنا میرے نزدیک تو قابل شرم امر ہے کہ بیچ ہے کہ لوگ اس طرح پر اپنے رسول کریم ﷺ کو آسمان پر نہیں لے جاتے اور نہ روحانی قربوں کے لئے اس کی کچھ ضرورت ہے مگر روحانی زندگی کے لحاظ سے ہم تمام نبیوں میں سے اعلیٰ درجے پر اپنے نبی ﷺ کو زندہ سمجھتے ہیں اور قرآن شریف کی آیت وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ لے میں اس زندگی کی طرف اشارہ فرماتا ہے کیونکہ اس کا یہی مطلب ہے کہ جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت علی باطنی فیض پایا ایسا ہی آخری زمانے میں ہو گا کہ مسیح موعود اور اس کی جماعت آنحضرت سے فیض پائے گی جیسا کہ اب ظہور میں آرہا ہے اور ایک بڑی دلیل اس بات پر که صرف ہمارے نبی ﷺہ روحانی طور پر اعلیٰ زندگی رکھتے ہیں دوسرا کوئی نہیں رکھتا آپ کے تاثیرات اور برکات کا زندہ سلسلہ ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ سچے مسلمان آنحضرت ﷺ کی سچی پیروی کر کے خدا تعالیٰ کے مکالمات سے شرف پاتے ہیں اور الجمعة : ۴