حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 397 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 397

حیات احمد ۳۹۷ جلد پنجم حصہ اول جس کا نام مرہم عیسی ہے یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر جانے کا قصہ غلط اور عوام کی خود تراشیدہ باتیں ہیں۔سچ صرف اس قدر ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر وفات پانے سے بچ گئے تھے مگر آپ کے ہاتھوں اور پیروں پر زخم ضرور آئے تھے اور وہ زخم مرہم عیسی کے لگانے سے اچھے ہو گئے۔آپ کے حواریوں میں سے ایک ڈاکٹر بھی تھا غالبا یہ مرہم اس نے تیار کی ہوگی چونکہ مرہم عیسی کا ثبوت ایک علمی پیرایہ میں ہم کو ملا ہے جس پر تمام قوموں کے کتب خانے گواہ ہیں۔اس لئے یہ ثبوت بڑے قدر کے لائق ہے۔تیسرا تاریخی گواہ حضرت مسیح کے آسمان پر نہ جانے کا یوز آسف کا قصہ ہے جو آج سے گیارہ سو برس پہلے تمام ایشیا اور یورپ میں شہرت پاچکا ہے۔یوز آسف حضرت مسیح ہی تھے جو صلیب سے نجات پا کر پنجاب کی طرف گئے اور پھر کشمیر میں پہنچے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں وفات پائی۔اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ یوز آسف کی تعلیم اور انجیل کی تعلیم ایک ہے اور دوسرے یہ قرینہ کہ یوز آسف اپنی کتاب کا نام انجیل بیان کرتا ہے۔تیسرا قرینہ یہ ہے کہ اپنے تئیں شہزادہ نبی کہتا ہے۔چوتھا یہ قرینہ کہ یوز آسف کا زمانہ اور مسیح کا زمانہ ایک ہی ہے۔بعض انجیل کی مثالیں اس کتاب میں بعینہ موجود ہیں جیسا کہ ایک کسان کی مثال ، چوتھا تاریخی گواہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر وہ قبر ہے جو اب تک محلّہ خانیار سری نگر کشمیر میں موجود ہے۔بعض کہتے ہیں کہ یوز آسف شہزادہ نبی کی قبر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عیسی صاحب کی قبر ہے اور کہتے ہیں کہ کتبہ پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ شہزادہ اسرائیل کے خاندان میں سے تھا کہ قریباً اٹھارہ سو برس اس بات کو گزر گئے کہ جب یہ نبی اپنی قوم سے ظلم اٹھا کر کشمیر میں آیا تھا اور کوہ سلیمان پر عبادت کرتا رہا۔اور ایک شاگرد ساتھ تھا۔اب بتلاؤ کہ اس تحقیق میں کون سی کسر باقی رہ گئی۔سچائی کو قبول نہ کرنا یہ اور بات ہے لیکن کچھ شک نہیں کہ بھانڈا پھوٹ گیا اور یوز آسف کے نام پر کوئی تعجب نہیں ہے کیونکہ یہ نام یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔آسف بھی حضرت مسیح کا عبرانی میں ایک نام ہے جس کا ذکر انجیل میں بھی ہے اور اس کے معنی ہیں متفرق قوموں کو اکٹھا کرنے