حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 377
حیات احمد ۳۷۷ جلد پنجم حصہ اول ہاں یہ سچ ہے کہ مطبوعہ خطبہ الہامیہ کا جو دوسرا باب شروع ہوتا ہے آخر تک وہ الہامی نہیں جیسا کہ خطبہ الہامیہ اور یہ بھی سچ ہے کہ اس حصہ میں تائیدات الہیہ آپ کے ساتھ تھیں اور اللہ تعالیٰ کے القاء سے بعض الفاظ یا جملے اس میں آتے رہے ہیں گوان کا وہ مقام نہیں جو خطبہ الہامیہ کا ہے تالیفات کے وقت تائیدات الہی کس طرح ہوتی تھی۔اس کا ذکر آپ نے خود نزول اسیح میں کیا ہے فرماتے ہیں۔یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدائے تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اردو یا فارسی دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے (۱) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور میں اس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اُس تحریر میں مجھے کوئی مشقت اٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ بھی سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی ایک خاص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اس کے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اس کی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمہ فطرت خواص انسانی ہے کسی قدر مشقت اٹھا کر اور بہت سا وقت لے کر ان مضامین کو میں لکھ سکتا وَاللهُ أَعْلَمُ۔(۲) دوسرا حصہ میری تحریر کا محض خارق عادت کے طور پر ہے اور وہ یہ ہے کہ جب میں مثلاً ایک عربی عبارت لکھتا ہوں اور سلسلہ عبارت میں بعض ایسے الفاظ کی حاجت پڑتی ہے کہ وہ مجھے معلوم نہیں ہیں تب اُن کی نسبت خدا تعالیٰ کی وحی رہنمائی کرتی ہے اور وہ لفظ وحی متلو کی طرح روح القدس میرے دل میں ڈالتا ہے اور زبان پر جاری کرتا ہے اور اس وقت میں اپنی جس سے غائب ہوتا ہوں۔مثلاً عربی عبارت کے سلسلہ تحریر میں مجھے ایک لفظ کی ضرورت پڑی جو ٹھیک ٹھیک بسیاری کا ترجمہ ہے اور وہ مجھے معلوم نہیں سلسلہ عبارت