حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 378
حیات احمد ۳۷۸ جلد پنجم حصہ اول اس کا محتاج ہے تو فی الفور دل میں وحی متلو کی طرح لفظ ضَفَف ڈالا گیا جس کے معنی ہیں بسیاری عیال۔یا مثلاً سلسلہ تحریر میں مجھے ایسے لفظ کی ضرورت ہوئی جس کے معنی ہیں غم و غصہ سے چُپ ہو جانا اور مجھے وہ لفظ معلوم نہیں تو فی الفور دل میں وحی ہوئی کہ وُجُوم۔ایسا ہی عربی فقرات کا حال ہے۔عربی تحریروں کے وقت میں صدہا بنے بنائے فقرات وحی متلو کی طرح دل پر وارد ہوتے ہیں اور یا یہ کہ کوئی فرشتہ ایک کاغذ پر لکھے ہوئے فقرات دکھا دیتا ہے۔نزول مسیح صفحه ۵۶، ۵۷ - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفر ۴۳۴، ۴۳۵ ) حضرت مرزا ایوب بیگ کی وفات حضرت مرزا ایوب بیگ رضی اللہ عنہ کلانور کے مغل خاندان کے درخشندہ گوہر تھے اور یہ اپنے خاندان کے احمدیت میں آدم تھے۔بی۔اے کی ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ وہ آنکھیسن کالج میں نوکر ہو گئے اور کچھ عرصہ تک انہوں نے مدرسہ تعلیم الاسلام میں بھی آنریری طور پر سلسلہ کی خدمت کی حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے سر بر آوردہ علماء کرام سے انہیں خاص محبت و اخلاص تھا وہ اپنی عملی زندگی میں جوانی میں ہی ایک ولی اللہ تھا۔حکیم شیراز نے کہا ہے۔ھے در جوانی تو به کردن شیوه پیغمبری مجھے یہاں مرحوم ایوب کی سیرت کو بیان کرنا نہیں ہے ان کے حالات زندگی الحکم میں شائع ہوئے تھے ان کے زہرا نقا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جاں نثارانہ تعلقات کی وجہ سے ان کی وفات ایک آسمانی نشان کا ذریعہ ہوئی اس لئے میں نے یہاں ذکر کیا ہے اور یہ ۱۹۰۰ء کے نشانات تائیدی میں سے ایک ہے۔حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب کی صلاحیت اور تقویٰ کی وجہ سے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ان سے محبت رکھتے تھے اس لحاظ سے میں نے ضروری سمجھا کہ حضرت سعدی کے اس مقولہ پر عمل کروں۔؎