حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 376
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول ترجمہ سنایا وہ گویا روح القدس کی امداد سے بول رہے تھے لفظی با محاورہ سلیس مسلسل جس قدر خوبیاں ایک ترجمہ میں ہونی چاہئیں وہ سب موجود تھیں۔سجده شکر مبارک ابھی حضرت مولانا موصوف ترجمہ سنا ہی رہے تھے کہ حضرت اقدس فرط جوش کے ساتھ سجدہ شکر میں جا پڑے آپ کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدہ شکر ادا کیا سجدہ سے سر اٹھا کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ابھی میں نے سرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ مبارک یہ گویا قبولیت کا نشان ہے آخر مولانا صاحب نے ترجمہ ختم کیا اور ترجمہ ختم کرتے وقت نماز ظہر کا وقت ہو گیا پس نماز ظہر اور عصر جمع کر کے ادا کی گئی۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اتنی مہلت دی کہ قرآن کریم کی طرح ایک عظیم الشان نشان ہم نے اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھ لیا اب خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمارا خاتمہ اور حشر اس امام کے ساتھ کرے جس پر اس کی نصرتوں کی بارش ہورہی ہے اور دنیا کو دیکھنے کی آنکھ اور سمجھنے کا دل عطا فرمادے۔آمین خطبہ الہامیہ کے متعلق کچھ اور خطبہ الہامیہ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کو الہامی طور پر دیا گیا تھا۔مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مرحوم نے نہیں معلوم یہ کیوں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ خطبہ وحی الہی نہ تھا۔میں سمجھتا ہوں انہوں نے وحی کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کھائی ہے حضرت اقدس نے دوران تقریر میں فرمایا تھا کہ جو لفظ سمجھ میں نہ آئے ابھی پوچھ لو پھر مجھے بھی یاد نہ رہے گا۔اور یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ میرے دماغ اور فکر کا نتیجہ نہیں خود بخود جملے اور فقرے لگا تار آ رہے تھے اور اسی لئے اس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا۔