حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 364
حیات احمد ۳۶۴ جلد پنجم حصہ اوّل عیدالفطر کو جو ۲ فروری کو واقع ہوئی آپ نے عید الفطر کا خطبہ دیا یہ خطبہ حقائق و معارف کا ایک بحر رواں ہے اس میں آپ نے عبارت کو اطمینان اور آزادی کی شرائط اور لوازم کو بیان کرتے ہوئے دوسری شرط کے ذیل میں اپنی دعوت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔وو دوسری شرط ایمان ہے اگر خدا تعالیٰ اور اس کے احکام پر ایمان ہی نہ رہا ہو اور اندر ہی اندر بے دینی اور الحاد کا جذام لگ گیا ہو تو بھی تعمیل احکام الہی نہیں ہوسکتی یہی وجہ ہے کہ بہت لوگ کہا کرتے ہیں۔ایہہ جگ مٹھاتے اگلا کن ڈٹھا، افسوس ہے دو آدمیوں کی شہادت پر ایک مجرم کو پھانسی مل سکتی ہے مگر باوجود یکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور بے انتہا ولیوں کی شہادت موجود ہے لیکن ابھی تک اس قسم کا الحادلوگوں کے دلوں سے نہیں گیا۔ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے مقتدر نشانوں اور معجزات سے اَنَا الْمَوْجُود کہتا ہے مگر یہ کمبخت کان رکھتے ہوئے بھی نہیں سنتے۔غرض یہ شرط بھی بہت بڑی ضروری شرط ہے اس کے لئے بھی ہمیں گورنمنٹ انگلشیہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ ایمان واعتقاد پختہ کرنے کے لئے عام تعلیم مذہبی کی ضرورت تھی اور مذہبی تعلیم کا انحصار مذہبی کتابوں کی اشاعت سے وابستہ تھا۔پر لیس اور ڈاک خانہ کی برکت سے ہر قسم کی مذہبی کتا بیں مل سکتی ہیں اور اخبارات کے ذریعہ تبادلہ خیالات کا موقع بھی ملتا ہے سعید الفطرت لوگوں کے لئے بڑا بھاری موقع حاصل ہے کہ ایمان و اعتقاد میں رسوخ حاصل کریں۔ان باتوں کے علاوہ جو ضروری اور اشد ضروری بات ایمان کے رسوخ کے لئے ہے وہ خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں جو اس شخص کے ہاتھ پر سر زد ہوتے ہیں جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے اور اپنے طرز عمل سے گم شدہ صداقتوں اور معرفتوں کو زندہ کرتا ہے۔سوخدا کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے اس زمانہ میں ایسے شخص کو پھر ایمان زندہ کرنے کے لئے مامور کیا اور اس لئے بھیجا کہ تا لوگ قوت یقین میں ترقی کریں وہ اسی مبارک گورنمنٹ کے عہد میں آیا۔وہ کون ہے؟ وہی جو تم میں کھڑا ہوا بول رہا ہے چونکہ یہ مسلم