حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 362
حیات احمد ۳۶۲ جلد پنجم حصہ اول ذریعہ ارسال کیا اور حضرت اقدس نے شرف قبولیت بخشا۔اڑیسہ کی جماعت اس وقت سے برابر ترقی کر رہی ہے اور اس جماعت میں شروع ہی سے گریجوایٹ اور اعلی تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہوتے آئے ہیں اور اس جماعت کے افراد نے قادیان آکر دینی تعلیم حاصل کی۔مدرسہ تعلیم الاسلام ، ہائی سکول ہو گیا مدرسہ تعلیم الاسلام جس کا ذکر ۱۸۹۸ء کے واقعات میں آچکا ہے ۳ جنوری ۱۸۹۸ء کو ایک پرائمری سکول کی حیثیت سے جاری ہوا اور جس کی صدر مدرسی کی عزت راقم الحروف کو حاصل ہوئی اور جس کے معاونین حضرت بھائی عبدالرحمن سَلَّمَهُ الرَّحْمن اور حضرت مفتی فضل الرحمٰن مرحوم اور حضرت حافظ احمد اللہ خاں تھے اسی سال وہ مڈل تک ترقی کر گیا یعنی ۱۹۰۰ء کے شروع ہی میں مڈل سکول ترقی کر گیا۔چنانچہ فروری ۱۹۰۰ء میں مڈل سکول ہائی ہو گیا اور ۹ رفروری ۱۹۰۰ء کو حضرت مولوی عبد الکریم نے بحیثیت ناظم التعلیم ذیل کا اعلان شائع کیا۔ایک ضروی اعلان بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میں بڑی خوشی اور مسرت کے ساتھ اس بات کی مبارکباد آپ کو دیتا ہوں کہ مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان جو پیشتر ازیں مڈل تک تھا یکم فروری سے ہائی سکول بنادیا گیا ہے۔اس مدرسہ کی تعلیم کی خوبی اس سے عیاں ہے کہ دولا ئق اور نیک چلن فرشتہ وش گریجوایٹ تعلیم کیلئے مقرر ہیں اور باقی سب سٹاف بھی بہت عمدہ ہے دینی و دنیوی تعلیم خاطر خواہ ہوتی ہے نہ صرف تعلیم بلکہ تربیت بھی اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے کیوں نہ ہو جبکہ طلباء اور استاد مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت سے روز مرہ مستفیض ہوتے ہوں اس قسم کی تعلیم و تربیت کا موقع دنیا میں کہیں بھی حاصل نہیں پھر قابل افسوس بات ہوگی اگر آپ لوگ اپنی اولاد کو ایسے مبارک مدرسہ میں تعلیم سے محروم رکھیں حضرت اقدس کی صحبت ایک اکسیر کا حکم