حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 361
حیات احمد ۳۶۱ جلد پنجم حصہ اول قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ - آمين ۱۹۰۰ ء کے واقعات اور حالات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کا ہر نیا دن نئے برکات لے کر آتا تھا اور ہر سال کا خاتمہ اس کی ابتدا سے بہت بہتر اور شاندار ہوتا تھا۔۱۹۰۰ ء کا آغا زنی برکات اور ترقیات لے کر آیا ان ترقیات سے جماعت بحیثیت مجموعی اور افراد بہ حیثیت فرد اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کا حصہ لیتا رہا۔راقم الحروف کے لئے بھی نیا سال نئی برکات لے کر آیا۔۲ جنوری ۱۹۰۰ء کو اللہ تعالیٰ نے دوسرا فرزند عطا فرمایا جو اس وقت تک الْحَمْدُ لِلہ زندہ اور صاحب اولا د ہے۔اور مجھے اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ میں قرآن کریم کا ترجمہ معہ تفسیری نوٹوں کے شائع کروں اور جماعت نے بڑے انشراح اور شوق سے میرے ساتھ تعاون کیا۔جَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ رض حضرت مَخْدُوْمُ الْمِلَّةٌ کے خطوط حضرت مَخْدُومُ الْمِلَّة مولانا عبد الکریم رضی اللہ عنہ نے آغا ز ۱۹۰۰ء میں اپنے خطوط کے سلسلہ میں ایک عظیم الشان تالیف کی داغ بیل اپنی چٹھیات کے ذریعہ رکھ دی جو الحکم میں شائع ہوئی تھیں ان خطوط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک سیرت کے ان واقعات کو نمایاں کیا جو حضرت مخدوم الملة نے آپ کے الدار میں رہ کر مشاہدہ کئے تھے یہ سیرت شائع ہو چکی ہے۔يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا آغاز سال کے ساتھ ہی سلسلہ بیعت میں غیر معمولی ترقی کا آغاز ہوا۔رمضان المبارک میں ضلع کھٹک (اڑیسہ) سے حضرت مولوی سید عبدالرحیم صاحب کھٹکی کی تبلیغ سے پانچ سو آدمیوں نے ایک ہی دن میں بیعت کا معروضہ حضرت اقدس کی خدمت میں حضرت سید عبدالرحیم صاحب کے