حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 334
حیات احمد ۳۳۴ جلد پنجم حصہ اول کی تائید ہے اور اس فہرست میں یہ جتلانا چاہا کہ منجملہ میری خدمات کے ایک یہ بھی خدمت ہے کہ میں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھا ہے کہ مہدی کی حدیثیں صحیح نہیں ہیں۔اور اس فہرست کو اس نے بڑی احتیاط سے پوشیدہ طور پر شائع کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ قوم کے روبرو اس فہرست کے برخلاف اس نے اپنا عقیدہ ظاہر کیا ہے اور اس دورنگی کے ظاہر ہونے سے وہ ڈرتا تھا کہ اپنی قوم مسلمانوں کے رو برو تو اس نے یہ ظاہر کیا کہ وہ ایسے مہدی کو بدل و جان مانتا ہے کہ جو دنیا میں آکر لڑائیاں کرے گا اور ہر ایک قوم کے مقابل پر یہاں تک کہ عیسائیوں کے مقابل بھی تلوار اٹھائے گا۔اور پھر اس فہرست انگریزی کے ذریعہ سے گورنمنٹ پر یہ ظاہر کرنا چاہا کہ وہ خونی مہدی کے متعلق تمام حدیثوں کو مجروح اور ناقابل اعتبار جانتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت سے وہ پوشیدہ کارروائی اس کی پکڑی گئی اور نہ صرف قوم کو اس سے اطلاع ہوئی بلکہ گورنمنٹ تک بھی یہ بات پہنچ گئی کہ اس نے اپنی تحریروں میں دونوں فریق گورنمنٹ اور رعایا کو دھوکہ دیا ہے اور ہر ایک ادنی عقل کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ پردہ دری محمد حسین کی ذلت کا باعث تھی اور وہی انکار مہدی جس کی وجہ سے اس ملک کے نادان مولوی مجھے دقبال اور کافر کہتے تھے محمد حسین کے انگریزی رسالہ سے اس کی نسبت بھی ثابت ہو گیا یعنی یہ کہ وہ بھی اپنے دل میں ایسی حدیثوں کو موضوع اور بیہودہ اور لغو جانتا ہے۔غرض یہ ایک ایسی ذلت تھی کہ یکدفعه محمد حسین کو اپنی ہی تحریروں کی وجہ سے پیش آگئی۔اور ابھی ایسی ذلت کا کہاں خاتمہ ہے بلکہ آئندہ بھی جیسے جیسے گورنمنٹ اور مسلمانوں پر کھلتا جائے گا کہ کیسے بقیہ حاشیہ۔کہ محمد حسین کا ایک منہ نہیں ہے بلکہ وہ دو منہ سے کام لیتا ہے۔اپنی قوم کے روبرو جو وہابی ہیں غازی مہدی پر ایمان ظاہر کرتا ہے۔پھر گورنمنٹ کے خوش کرنے کیلئے غازی مہدی کی حدیثوں کو مجروح اور ضعیف قرار دیتا ہے اور یہ طریق اور یہ برتاؤ یکرنگ انسانوں کا ہر گز نہیں ہوتا۔سو ذلت تو اس دورنگی میں تھی جو ہم نے ثابت کر دی۔استفتاء کا اس میں کچھ حقیقی دخل نہ تھا۔افسوس یہ لوگ نہیں سوچتے کہ استفتاء میں ہماری طرف سے کون سی خیانت تھی کیا استفتاء میں کسی کا نام ظاہر کرنا بھی شرط ہے۔منہ