حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 333 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 333

حیات احمد ۳۳۳ جلد پنجم حصہ اول فَاصْبِرُ حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِيْنَ هُمُ مُحْسِنُونَ۔ترجمہ اس الہام کا یہ ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں عنقریب خدا تعالیٰ کا غضب ان پر وارد ہو گا۔خدا کی مارانسانوں کی مار سے سخت تر ہے۔ہمارا حکم تو اتنے ہی میں نافذ ہو جاتا ہے کہ جب ہم ایک چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم اس چیز کو کہتے ہیں کہ ہو جا تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔کیا تو میرے حکم سے تعجب کرتا ہے۔میں عاشقوں کے ساتھ ہوں۔میں ہی وہ رحمن ہوں جو بزرگی اور بلندی رکھتا ہے اور ظالم اپنا ہاتھ کاٹے گا اور میرے آگے ڈال دیا جائے گا۔بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے اور اُن کو ذلت پہنچے گی یعنی اسی قسم کی ذلت اور اسی مقدار کی ذلت جس کے پہنچانے کا انہوں نے ارادہ کیا ان کو پہنچ جائے گی۔خلاصہ منشاء الہام یہ ہے کہ وہ ذلّت مثلی ہوگی کیونکہ بدی کی جزاء اسی قدر بدی ہے۔اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے کوئی ان کو بچانے والا نہیں۔پس صبر کر جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے امر کو ظاہر کرے۔خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہے جو نیکی کرنے والے ہیں۔یہ پیشگوئی ہے جو خدا تعالیٰ نے محمد حسین اور اس کے دور فیقوں کے نسبت کی تھی اور اس میں ظاہر کیا تھا کہ اسی ذلت کے موافق ان کو ذلت پہنچائی جائے گی جو انہوں نے پہنچائی سو یہ پیشگوئی اس طرح پر پوری ہوئی کہ محمد حسین نے اس پیشگوئی کے بعد پوشیدہ طور پر ایک انگریز کی فہرست اپنی کارروائیوں کی شائع کی جن میں گورنمنٹ کے مقاصد حاشیہ۔بعض نادان ہم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ دھوکہ دے کر مولوی محمد حسین پر فتوی کفر اور الحاد کھوایا، لیکن افسوس کہ یہ لوگ اپنے قدیم تعصب اور بخل سے باز نہیں آتے۔یادر ہے کہ اصل جڑھ ذلت کی وہ انگریزی فہرست تھی جو پوشیدہ طور پرمحمد حسین نے چھاپ کر گورنمنٹ کی طرف بھیجی تھی۔پس جب یہ ذلت کا مادہ ہمارے ہاتھ میں آیا تو ہم نے استفتاء طیار کر کے اور اس فہرست انگریزی کا مضمون پیش کر کے مولویوں سے اس پر کفر کی مہریں لگوائیں۔سواس میں ہماری طرف سے کوئی اختراع نہ تھا اصل مادہ جو ہم دکھلانا چاہتے تھے وہ فہرست تھی جو ہمارے ہاتھ آگئی۔اگر ہم استفتاء بھی طیار نہ کرتے تاہم وہ فہرست محمد حسین کی ذلت کے لئے کافی تھی جس سے ثابت ہوتا تھا