حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 335 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 335

حیات احمد ۳۳۵ جلد پنجم حصہ اول اس شخص نے دورنگی کا طریق اختیار کر رکھا ہے ویسے ویسے اس ذلت کا مزہ زیادہ سے زیادہ محسوس کرتا جائے گا اور اس ذلت کے ساتھ ایک دوسری ذلت اس کو یہ پیش آئی کہ میرے اشتہا ر۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کے صفحہ کی اخیر سطر میں جو یہ الہامی عبارت تھی کہ ا تَعْجَبُ لِامْرِی اس پر مولوی محمد حسین صاحب نے یہ اعتراض کیا کہ یہ عبارت غلط ہے اس لئے یہ خدا کا الہام نہیں ہوسکتا اور اس میں غلطی یہ ہے کہ فقرہ اَ تَعْجَبُ لِأَمْرِئُ لکھا ہے یہ مِنْ اَمْرِی چاہیے تھا کیونکہ عجب کا صلہ مِنْ آتا ہے نہ کام۔اس اعتراض کا جواب میں نے اپنے اس اشتہار میں دیا ہے جس کے عنوان پر موٹی قلم سے یہ عبارت ہے’حاشیہ متعلقہ صفحہ اوّل اشتہار مورخہ ۳۰ /نومبر ۱۸۹۸ء‘اس جواب کا ماحصل یہ ہے کہ معترض کی یہ نادانی اور نا واقفیت اور جہالت ہے کہ وہ ایسا خیال کرتا ہے کہ گویا عجب کا صلہ لام نہیں آتا۔اس اعتراض سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ معترض فن عربی سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہے اور صرف نام کا مولوی ہے کیوں کہ ایک بچہ بھی جس کو کچھ تھوڑی سی مہارت عربی میں ہو سمجھ سکتا ہے کہ عربی میں عجب کا صلہ لام بھی بکثرت آتا ہے اور یہ ایک شائع متعارف امر ہے اور تمام اہل ادب اور اہل بلاغت کے کلام میں یہ صلہ پایا جاتا ہے چنانچہ اس معروف و مشہور شعر میں لام ہی صلہ بیان کیا گیا ہے اور وہ شعر یہ ہے۔۔عَجِبْتُ لِمَوْلُودٍ لَيْسَ لَهُ أَبٌ وَمِنْ ذِي وَلَدٍ لَيْسَ لَهُ أَبَوَانِ یعنی اس بچہ سے مجھے تعجب ہے جس کا باپ نہیں یعنی حضرت عیسی علیہ السلام سے اور اس سے زیادہ تعجب اس بچوں والے سے ہے جس کے ماں باپ دونوں نہیں۔اس شعر میں دونوں صلوں کا بیان ہے کام کے ساتھ بھی اور من کے ساتھ بھی اور ایسا ہی دیوان حماسہ میں جو بلاغت اور فصاحت میں ایک مسلّم اور مقبول دیوان ہے اور سرکاری کالجوں میں داخل ہے پانچ شعر میں عجب کا صلہ لام ہی لکھا ہے چنانچہ منجملہ ان کے ایک