حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 322 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 322

حیات احمد ۳۲۲ جلد پنجم حصہ اوّل ہے وہ یہ یاد آیات قرآنی پڑھتا جاتا ہے اور میرے ہاتھ میں ایک قرآن شریف ہے جو کسی عجیب خط میں ناخنی حروف میں لکھا ہوا ہے۔میں دیکھ رہا ہوں اور وہ شخص پڑھ رہا ہے۔اتنے میں ایک کتب فروش آیا ہے اس کے پاس چند کتابیں ہیں۔میرے ایک شاگرد نے ان میں سے ایک کتاب خرید کر مجھ کو دکھائی ہے اس کا نام ضرورۃ الاسلام ہے اور اس کا سرورق سرخ رنگ کا ہے اس پر یہ لکھا ہے کہ یہ کتاب مرزا صاحب قادیانی کی تصنیف ہے اس پر مرزا صاحب کے چند القاب بھی لکھے ہیں۔جن میں سے ایک جو مجھ کو یا د رہا ہے (مامور من اللہ ) ہے وہ رسالہ میرے ہاتھ میں جب اس امیر نے دیکھا ہے تو وہ کہتا ہے واقعی یہ ایک عجیب رسالہ ہے میں نے بھی اس کا مطالعہ کیا ہے میں نے اس کے پڑھنے سے جو لذت حاصل کی ہے بعد کلام الہی کے ایسی لذت کسی کتاب کے پڑھنے سے کبھی نہیں اٹھائی۔وہ کہتا ہے کہ میں عاشق کلام الہی ہوں۔قرآن کریم ہر وقت میرا ورد زبان رہتا ہے لیکن اس رسالہ کے پڑھنے میں میں ایسا دو دن محور ہا ہوں کہ منزل قرآن مجید مجھ سے دو دن رہ گئی ہے۔وہ یہ کہ کر ساتھ ہی پھر کہتا ہے کہ میرے اس کلام سے یہ نہ سمجھنا کہ میں معاذ اللہ اس کو کلام الہی پر ترجیح دیتا ہوں بلکہ مطلب یہ ہے کہ بعد کلام الہی یہ رسالہ مجھ کو کمال درجہ پسند ہوا ہے۔اُس شخص کے مکان میں کچھ لڑکے بالے بھی کھیل رہے ہیں اور اُس نے مجھے کہا ہے کہ میرے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا ہے اُس کا نام کیا رکھا جاوے۔میں نے کہا کہ آپ کے پہلے لڑکے کا کیا نام ہے۔اُس نے کہا کہ اس کا نام حیدر علی ہے اور اب اس لڑکے کا نام جعفر علی رکھنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا ہے کہ اس کا نام غضنفر علی یا صفدر علی رکھنا چاہیے پھر میں بیدار ہو گیا اور اس خواب کے اثر سے میرے دل میں رفت پیدا ہوئی اور آنسو آنکھوں سے جاری ہوئے۔هَذَا مَارَتَيْتُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِتَعُبِيرِ هِ۔وَالسَّلام۔