حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 301 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 301

حیات احمد جلد پنجم حصہ اول اپنی بہادری دکھلا تارہے گا بلکہ ممکن ہے کہ ایسا شخص ضعف قلب کی وجہ سے ایک چو ہے کی تیز رفتاری سے بھی کانپ اٹھتا ہو چہ جائیکہ وہ کسی میدان میں شیر کی طرح بہادری دکھلاوے۔لیکن وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ سے شیر بہادر کا خطاب ملے اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ در حقیقت بہادر ہی ہو کیونکہ خدا انسان نہیں ہے کہ جھوٹ بولے یا دھوکہ کھاوے یا کسی پولیٹیکل مصلحت سے ایسا خطاب دے دے جس کی نسبت وہ اپنے دل میں جانتا ہے کہ دراصل وہ شخص اس خطاب کے لائق نہیں اس لئے یہ بات محقق امر ہے کہ فخر کے لائق وہی خطاب ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے اور وہ خطاب دو قسم کا ہے۔اوّل وہ جو وحی اور الہام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک نبیوں میں سے کسی کو صفی اللہ کا لقب دیا اور کس کو کلیم اللہ کا اور کسی کو روح اللہ کا اور کسی کو مصطفے اور حبیب اللہ کا ان تمام نبیوں پر خدا تعالیٰ کا سلام اور رحمتیں ہوں اور دوسری قسم خطاب کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض نشانوں اور تائیدات کے ذریعہ سے بعض اپنے مقبولین کی اس قدر محبت لوگوں کے دلوں میں یکدفعہ ڈال دیتا ہے کہ یا تو ان کو جھوٹا اور کافر اور مفتری کہا جاتا ہے اور طرح طرح کی نکتہ چینیاں کی جاتی ہیں اور ہر ایک بد عادت اور عیب اُن کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور یا ایسا ظہور میں آتا ہے کہ ان کی تائید میں کوئی ایسا پاک نشان ظاہر ہو جاتا ہے جس کی نسبت کوئی انسان کوئی بدظنی نہ کر سکے اور ایک موٹی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکے کہ یہ نشان انسانی ہاتھوں سے اور انسانی منصوبوں سے پاک ہے اور خاص خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے ہاتھ سے نکلا ہے تب ایسانشان ظاہر ہونے سے ہر ایک سلیم طبیعت بغیر کسی شک وشبہ کے اُس انسان کو قبول کر لیتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی یہ بات پڑ جاتی ہے کہ یہ شخص در حقیقت سچا ہے تب لوگ اس الہام کے ذریعہ سے جو خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے اس شخص