حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 300 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 300

حیات احمد جلد پنجم حصہ اول بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ایک الہامی پیشگوئی کا اشتہار چونکہ مجھے ان دنوں میں چند متواتر الہام ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ عنقریب آسمان سے کوئی ایسا نشان ظاہر کرے گا جس سے میرا صدق ظاہر ہو اس لئے میں اس اشتہار کے ذریعہ سے حق کے طالبوں کو امید دلاتا ہوں کہ وہ وقت قریب ہے کہ جب آسمان سے کوئی تازہ شہادت میری تائید کے لئے نازل ہوگی۔یہ ظاہر ہے کہ جس قد رخدا تعالیٰ کے مامور دنیا میں آئے ہیں گوان کی تعلیم نہایت اعلیٰ تھی اور اُن کے اخلاق نہایت اعلیٰ تھے اور ان کی زیر کی اور فراست بھی اعلیٰ درجہ پر تھی لیکن ان کا خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونا لوگوں نے قبول نہ کیا جب تک کہ ان کی تائید میں آسمان سے کوئی نشان نازل نہیں ہوا۔اسی طرح خدا تعالیٰ اس جگہ بھی بارش کی طرح اپنے نشان ظاہر کر رہا ہے تا دیکھنے والے دیکھیں اور سوچنے والے سوچیں۔اور اب مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک برکت اور رحمت اور اعزاز کا نشان ظاہر ہو گا جس سے اکثر لوگ تسلی پائیں گے جیسا کہ ۱۴ ستمبر ۱۸۹۹ء کو یہ الہام ہوا۔ایک عزت کا خطاب۔ایک عزت کا خطاب۔لَكَ خِطَابُ الْعِزَّةِ۔ایک بڑا نشان اس کے ساتھ ہوگا۔یہ تمام خدائے پاک قدیر کا کلام ہے جس کو میں نے موٹی قلم سے لکھ دیا ہے اگر چہ انسانوں کے لئے بادشاہوں اور سلاطین وقت سے بھی خطاب ملتے ہیں مگر وہ صرف ایک لفظی خطاب ہوتے ہیں جو بادشاہوں کی مہربانی اور کرم اور شفقت کی وجہ سے یا اور اسباب سے کسی کو حاصل ہوتے ہیں اور بادشاہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوتے کہ جو خطاب انہوں نے دیا ہے اس کے مفہوم کے موافق وہ شخص اپنے تئیں ہمیشہ رکھے جس کو ایسا خطاب دیا گیا ہے مثلاً کسی بادشاہ نے کسی کو شیر بہادر کا خطاب دیا تو وہ بادشاہ اس بات کا متکفل نہیں ہوسکتا کہ ایسا شخص ہمیشہ