حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 302
حیات احمد ۳۰۲ جلد پنجم حصہ اول کو صادق کا خطاب دیتے ہیں کیونکہ لوگ اس کو صادق صادق کہنا شروع کر دیتے ہیں اور لوگوں کا یہ خطاب ایسا ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ نے آسمان سے خطاب دیا۔کیونکہ خدا تعالیٰ آپ ان کے دلوں میں یہ مضمون نازل کرتا ہے کہ لوگ اس کو صادق کہیں۔اب جہاں تک میں نے غور اور فکر کی ہے میں اپنے اجتہاد سے نہ کسی الہامی تشریح سے اُس الہام کے جس کو میں نے ابھی ذکر کیا ہے یہی معنے کرتا ہوں کیونکہ ان معنوں کے لئے اس الہام کا آخری فقرہ ایک بڑا قرینہ ہے کیونکہ آخری فقرہ یہ ہے کہ ایک بڑا نشان اس کے ساتھ ہوگا۔لہذا میں اپنے اجتہاد سے اس کے یہ معنی سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس جھگڑے کے فیصلہ کرنے کے لئے جو کسی حد تک پرانا ہو گیا ہے اور حد سے زیادہ تکذیب لے اس خطاب کی مثال یہ ہے کہ جیسا کہ مصر کے بادشاہ فرعون نے حضرت یوسف علیہ السلام کوصدیق کا خطاب دیا کیونکہ بادشاہ نے جب دیکھا کہ اس شخص نے صدق اور پاک باطنی اور پر ہیز گاری کے محفوظ رکھنے کیلئے باراں برس کا جیل خانہ اپنے لئے منظور کیا مگر بدکاری کی درخواست کو نہ مانا بلکہ ایک لحظہ کیلئے بھی دل پلید نہ ہوا تب بادشاہ نے اس راستباز کو صدیق کا خطاب دیا جیسا کہ قرآن شریف (کی ) سورہ یوسف میں ہے يُوْسُفَ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ (یوسف: ۴۷ ) معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خطابوں میں سے پہلا خطاب وہی تھا جو حضرت یوسف کو ملا۔منہ ے جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا معاملہ وحی اور الہام کے ساتھ ہو وہ خوب جانتا ہے کہ ملہمین کو کبھی اجتہادی طور پر بھی اپنے الہام کے معنی کرنے پڑتے ہیں۔اس طرح کے الہام بہت ہیں جو مجھے کئی دفعہ ہوئے ہیں اور بعض وقت ایسا الہام ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں اور ایک مدت کے بعد اس کے معنی کھلتے ہیں۔مثلاً ۹ استمبر ۱۸۹۹ء کو خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے اپنا کلام مجھ پر نازل کیا۔اِنَّا أَخْرَجْنَا لَكَ زُرُوعًا يَا إِبْرَاهِيمُ یعنی اے ابراہیم ہم تیرے لئے ربیع کی کھیتیاں اُگائیں گے۔زُرُوع - زرع کی جمع ہے اور ذرع عربی زبان میں ربیع کی کھیتی یعنی کنک وجو کو کہتے ہیں۔مگر آثا ر ایسے نہیں ہیں کہ یہ الہام اپنے ظاہر معنوں کے رو سے پورا ہو کیونکہ ربیع کی تخمریزی کے ایام گویا گزرگئے لہذا مجھے صرف اجتہاد سے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ تجھے کیا غم ہے۔تیری کھیتیاں تو بہت نکلیں گی یعنی ہم تیری تمام حاجات کے متکفل ہیں ایسا ہی ایک اور دوسرا الہام متشابہات میں سے ہے۔جوم راکتو بر ۱۸۹۹ء کو مجھے ہوا اور وہ یہ ہے کہ قیصر ہند کی طرف سے شکریہ اب یہ ایسا لفظ ہے کہ حیرت میں ڈالتا ہے کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہر یک قابل پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں مردہ سمجھتا ہوں۔میرا شکریہ کیسا۔سوایسے الہام متشابہات میں سے ہوتے ہیں۔جب تک خود خدا ان کی حقیقت ظاہر نہ کرے۔منہ