حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 277
حیات احمد ۲۷۷ موصل سے نصیبین تک نصیبین جانے کی وجہ جلد پنجم حصہ اول ممکن ہے کہ بہت سے احباب حیران ہوں کہ نصیبین کونسی جگہ ہے اور وہاں جانے کی کیا ضرورت پیش آئی، کیوں کہ یہ مقام بغداد دمشق وغیرہ کی طرح سے کوئی مشہور مقام نہیں ہے اور عوام الناس اس کے نام سے بھی واقف نہیں ہیں اس لئے ایسا سوال طبعا اور فطرتاً پیدا ہو جاتا ہے اس لئے میں وہاں جانے کی وجہ بتلا دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشاء تھا کہ وہ ایک وفد نصیبین کو روانہ کریں یہ وفد دراصل ایک علمی وفد تھا جس کی غرض یہ تھی کہ وہ آثار قدیمہ اور ان کے علماء سے مل کر یہ سراغ لگائیں کہ حضرت مسیح ناصری کا گزر ہندوستان آنے کے لئے اسی راستہ سے ہوا تھا تا کہ جہاں حضرت مسیح کے ہندوستان آنے کے اور آثار پائے جاتے ہیں اور ان کے صلیب سے بچ جانے کا پتہ قرآن کریم اور انجیل سے ملتا ہے وہاں اگر آثار قدیمہ سے مزید نشان مل جائے تو مسیحی مذہب کے لئے ناقابل تردید حجت ہوں گے۔حضرت مسیح کا وجود آج دنیا کے لئے بہت سی مشکلات کا باعث بن چکا ہے ایک وہ وقت تھا کہ یہود منہ پر طمانچے مارتے تھے اور پکڑ کر گھسیٹتے تھے یا اب یہ حالت ہے کہ دنیا سے مسیح کی خدائی منوائی جائے اور اس مردم پرستی کو پھیلانے کے لئے سینکڑوں نہیں ہزاروں مرد اور عورتیں اپنا سارا وقت قربان کر رہے ہیں پس اس دنیا میں ایک طرف بدیوں اور بدکاریوں کی ایک تیز رو بہہ رہی ہے اور دوسری طرف اس حقیقی خدا کا چہرہ مردم پرستی کے تیرہ و تار بادلوں میں چھپایا جا رہا ہے اس لئے سخت ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے منور چہرے کو دنیا میں پھر ظاہر کرے۔پس اس نے مسیح کے نام سے ایک اور شخص کو قادیان کی گمنام بستی میں کھڑا کیا تا کہ وہ بتلائے