حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 278 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 278

حیات احمد ۲۷۸ جلد پنجم حصہ اول کہ وہ انسان جسے غلطی سے خدا بنالیا گیا ہے وہ ہماری طرح ایک انسان تھا اور کشمیر کی وادی میں ابدی نیند سورہا ہے۔اور اس طرح اس انسان پرستی کا خاتمہ کر دے۔اور اپنے وجود سے یہ ثابت کر دے کہ مقام مسیحیت کسی کی ملک نہیں۔وہ خدا کی دین ہے جس کو چاہے دیدے۔خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے پس ناحق اس کا انتظار نہ کرو جو زمین کی گود میں سو رہا ہے اور موت کا مقتدر ہاتھ اس کے ساتھ وہی کر چکا ہے جو اس سے پہلوں سے کرتا رہا ہے۔ما المسيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ لا پس دوسرے مسیح کی آمد پہلے مسیح کی موت کا اعلان ہے اور پہلے مسیح کی موت خدا کے روشن چہرے کا اظہار ہے۔پس دوسرے مسیح نے جہاں بے شمار عقلی اور نقلی دلائل پہلے مسیح کی موت کے پیش کئے وہاں آپ نے یہ بھی چاہا کہ ان آثار قدیمہ کا سراغ لگایا جائے جو زمین کی تہہ میں محفوظ ہیں بے شک ایک دن آئے گا کہ زمین سے نشان ملیں گے کہ جو پکاریں گے کہ مسیحیت کی خدائی کا مینار اب بادِ مخالف کے جھونکوں سے گرا جاتا ہے۔پس ضرورت ہے کہ ان نشانوں کو ڈھونڈا جائے اور ان نشانوں کی تلاش نصیبین کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے کیونکہ مسیح ہندوستان میں اس راستے سے ہی آئے تھے۔آج واقعہ صلیب کو اس رنگ میں پیش کیا جارہا ہے کہ وہ کچھ کا کچھ بن رہا ہے حالانکہ توریت والے اس موت کا نام لعنتی موت رکھتے رہے مگر آج اس کی جو تشریح کی جارہی ہے اس سے انسانی دماغ کی داد دینی پڑتی ہے ۱۹ سو سال کے بعد خدا نے ایک اور مسیح کو کھڑا کیا جس نے بتلایا کہ میرا پیش رو نہ کاٹھ پر مارا گیا اور نہ لعنتی ہو وہ اس واقعہ سے قبل دعائیں کرتارہا اور غمگین تھا اور روتا رہا اور المائدة: ۷۶