حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 276
حیات احمد جلد پنجم حصہ اول التوا میں جلسہ الوداع کی رپورٹ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت شائع نہ ہوسکی مجھے افسوس اس امر کا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے جو تجویز فرمائی تھی وہ اس روز کی تاریخ کا ایک گمشدہ ورق ہو گیا۔میرا اپنا ذوق مجھے ہمیشہ اس امر کی تڑپ رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے جن امور کو پیش نظر رکھا اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت وہ جماعت کے ثواب کے لئے ملتوی ہوئے ان کو سر انجام دیا جاوے اسی تڑپ کے ماتحت میرا یہ خیال بھی تھا کہ میں خود یا عزیز مکرم محمود احمد مرحوم اس سفر کو اختیار کرے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے عجائبات ہیں کہ میں نے ارادہ کر لیا کہ مصر سے ایک اخبار جاری کیا جاوے عزیز مکرم محمود احمد صاحب کو اسی مقصد کے لئے ۲۰ ۱۹۲۱ء میں مصر بھیجا تھا اوراس کی تعلیم وہاں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے نوازا وہ جب واپس آیا تو حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی نے اسے نوازا اور اس کی خدمات کو شرف قبولیت بخشا اور اپنی ایک تقریر میں جو مرحوم محمود احمد کے اعزاز میں ترتیب دی ہوئی تقریب پر فرمایا کہ محمود احمد نے میرے منشاء کے موافق کام کیا ہے پھر جب میں نے مصر سے اخبار جاری کرنے کا عزم کیا تو میں نے پسند کیا کہ محمود احمد مرحوم اپنے چھوٹے بھائی ابراہیم علی کے ہمراہ نصیبین کے راستہ مصر جائے جہاں سے اسلامی دنیا کے اجرا کا ارادہ تھا اور یہ راستہ صرف اس لئے اختیار کیا گیا تھا کہ اس وفد کے سلسلہ میں شریک ثواب ہوں چنانچہ اس کی کسی قدر تفصیل مرحوم محمود احمد کے حالات سفر میں ملتی ہے جس کو میں تاریخ الحکم وسلسلہ کا ایک ورق یقین کر کے یہاں دیتا ہوں۔