حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل)

by Other Authors

Page 254 of 522

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 254

حیات احمد ۲۵۴ جلد پنجم حصہ اول اٹھایا اگر چہ بہت ہی خفیف مالی امداد انہوں نے کی مگر ان کو اس کا احساس ہونا قابل احترام ہے اُس وقت افریقہ میں موجود ہر احمدی الحکم کا خریدار تھا اور الحکم نے آخر اسی جماعت سے اپنا ایک بازو ( جسے حضرت اقدس مسیح موعود نے بھی اپنا دوسرا باز و قرار دیا ) بدر کے نام سے پیدا کیا جس کے مؤسس حضرت ڈاکٹر فیض علی صاحب سَلَّمَهُ اللهُ الاحد اور مرحوم حضرت با بومحمد افضل تھے جن کا ذکر پہلے کر آیا ہوں اور افریقہ کی جماعت میں پہلے شہید حضرت ڈاکٹر رحمت علی تھے۔حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب کی سلسلہ میں شمولیت نے افریقہ کی جماعت کی عملی قوت میں ایک نمایاں رفتار ترقی پیدا کر دی وہ سلسلہ کی مالی امداد میں پیش پیش تھی اور اشاعت سلسلہ کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار تھی۔ہندوستان میں سلسلہ کی اشاعت ایک طرف علماء و مشایخ ہند سلسلہ کی مخالفت میں ہر قسم کی تدبیریں کر رہے تھے اور مخالفت کا ہر نیا دن نئے منصوبوں اور مکا ید کو لے کر آتا تھا مگر اس کے ساتھ ہی سلسلہ کی اشاعت ہندوستان کے دور دراز حصوں میں کسی قسم منظم سلسلہ اشاعت کے بغیر ہورہی تھی گویا آسمانی فرشتے اسے پھیلا رہے تھے بعض مخالفین کے لٹریچر ہی کو پڑھ کر نور ہدایت پالیتے اور ادھر اللہ تعالیٰ اس وعدہ کے موافق کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے تذکره صفحه ۱۴۸ مطبوع ۲۰۰۴ء) زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا“۔مختلف قسم کے آسمانی حملے اس سچائی کو پھیلا رہے تھے مشرقی بنگال ، بر ما اور حیدرآباد دکن میں ایسے طور پر سلسلہ ترقی کر رہا تھا کہ عقل حیران ہوتی ہے۔مشرقی بنگال ریاست منی پور وغیرہ میں سلسلہ کی اشاعت کی ابتدا ایک ایسے بابرکت وجود سے شروع ہوئی جو دیکھنے میں بالکل نحیف اور کمزور انسان تھا اور دنیوی حیثیت کے لحاظ سے ایک انگریز کا معمولی خادم ان کا نام مولوی غلام امام عزیز الواعظین تھا اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں اس پاک روح پر ہوں اگر چہ کہ وہ ایک ضعیف اور بوڑھا ص تھا اور شاہجہانپور کا رہنے والا تھا مگر عملی قوت میں جوان بلکہ جوانوں سے بڑھ کر تھا۔احمدیت