حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ اوّل) — Page 253
حیات احمد ۲۵۳ جلد پنجم حصہ اول لیا۔مبارک ان کے مقابلہ کی تاب نہ لا سکا اور آخر کار جنگلوں میں بھاگ کر آج تک اپنے کئے کی پاداش بھوگ رہا ہے۔اس فوج میں علاوہ مسلمان سپاہیوں کے ۲ ہاسپٹل اسٹنٹ تھے جس میں سے ایک ہمارے حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مخلص مرید ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب ساکن گوڑیا نوی تھے اور دوسرے پانچ صاحبان اول اول عدم واقفیت کی وجہ سے ہمارے مشن کی مخالفت کرتے رہے مگر آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کے سینوں کو حق کی شناخت کے لئے کھولا اور ہر ایک نے نیاز نامہ حضرت اقدس کی خدمت میں مخلصانہ روانہ کیا۔“ 66 الحکم مورخه ۲۹ /اکتوبر ۱۸۹۸ء صفحه ۱۱) افریقہ کی جماعت اس وقت اپنے کارناموں کی وجہ سے نہ صرف بیرون ملک میں پہلی جماعت تھی بلکہ اس کی قربانیاں شاندار تھیں صحابہ کی جماعت سے ابتداء صرف چند بزرگ وہاں گئے اُن کی تبلیغ اور عملی قوت نے ایک بڑی جماعت وہاں پیدا کر دی اور ان میں بعض اپنی قربانیوں کی وجہ سابقین سے بھی بڑھ گئے جیسے حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب شہید، حضرت ڈاکٹر اسمعیل گوڑیا نوی یہ جماعت ایک ممتاز جماعت تھی بعد میں ان میں بعض ایسے صحابی بھی شریک ہوئے جو اپنے مقام کے لحاظ سے واجب الاحترام اور سَابِقُونَ الاَوَّلُون میں سے ہیں انہیں میں حضرت حافظ حامد علی، حضرت منشی نبی بخش، حضرت حافظ محمد اسحاق صاحب غرض یہ جماعت ترقی کرتی گئی اور آج اسی افریقہ کے مختلف حصوں میں متعدد جماعتیں قائم ہیں اور ایک منظم ادارہ تبلیغ کام کر رہا ہے جس کے رئيس التبليغ عزیز مکرم مولوی مبارک احمد سَلَّمَهُ اللهُ أحد ہیں اور اسی جماعت کو یہ شرف حاصل ہوا کہ اس نے افریقہ کی سہیلی ( سواحیلی ) زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کیا اور بیش قیمت لٹریچران کی زبان میں پھیلا دیا حکومت میں بھی اس جماعت کا خاص مقام ہے مجھے مشرقی افریقہ کی جماعت کی تاریخ بیان کرنا پیش نظر نہیں بلکہ واقعات کے سلسلہ میں یہ ذکر آ گیا میں افریقہ کی جماعت کا اس لئے بھی ذکر کرنے پر مجبور تھا کہ اس جماعت نے سب سے اول الحکم کو مضبوط کرنے کے لئے عملی قدم